پاک فوج کی جانب سے چپورسن زلزلہ متاثرین کیلئے امدادی سامان کی دوسری کھیپ روانہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
ٹیم کے ساتھ ایک کمیونیکیشن گاڑی بھی شامل ہے، جبکہ ممکنہ فضائی معاونت کے پیش نظر ہیلی کاپٹر آپریشن سے متعلق معیاری طریقہ کار کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ پ اسلام ٹائمز۔ پاک آرمی نے چپورسن کے زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے امدادی سامان کی دوسری کھیپ روانہ کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ علاقے میں بروقت ریلیف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا۔ عکسری ذرائع کے مطابق پاک آرمی کی خصوصی امدادی ٹیم 24 جنوری 2026ء کو صبح 11 بجے روانہ ہوئی۔ مشن کے دوران ٹیم ضروری ریلیف سامان اپنے ہمراہ لے کر گئی ہے تاکہ متاثرین کی فوری ضروریات پوری کی جا سکیں۔ ذرائع کے مطابق ٹیم کے ساتھ ایک کمیونیکیشن گاڑی بھی شامل ہے، جبکہ ممکنہ فضائی معاونت کے پیش نظر ہیلی کاپٹر آپریشن سے متعلق معیاری طریقہ کار کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ پاک آرمی کا کہنا ہے کہ دور افتادہ اور مشکل جغرافیائی حالات کے باوجود متاثرہ افراد تک امداد کی بروقت رسائی کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور ریلیف سرگرمیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔