بالائی علاقوں میں برفباری اور ژالہ باری کے خوبصورت مناظر، ویڈیوز دیکھیں
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
ملک کے بالائی علاقوں میں برفباری اور ژالہ باری سے ہر طرف سفیدی چھا گئی جبکہ سوشل میڈیا پر خوبصورت مقامات کی ویڈیوز بھی شیئر کی جا رہی ہے۔
وادی سوات کے علاقے کالام میں برفباری کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور کالام میں برفباری کی مقدار تقریباً 3 فٹ بتائی جا رہی ہے۔
پارچنار میں منفی 5، کالام میں منفی 4 اور مالم جبہ میں منفی 3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
وادی سوات میں شدید برفباری سے پہاڑوں نے سفید چادر اوڑھ لی ہے جبکہ وادی قدرت کا حسین منظر پیش کر رہی ہے۔
سوات کے بالائی علاقے کالام میں بھی شدید برفباری سے موسم دلکش ہوگیا جبکہ سیاحوں نے بھی رخ کرنا شروع کر دیا۔
بٹگرام میں بھی برفباری سے موسم شدید سرد ہوگیا، برفباری کا سلسلہ رات سے وقفے وقفے سے جاری ہے۔
وادی کشمیر کے علاقے مظفرآباد میں بھی برفباری کا دلکش منظر دیکھا گیا۔ آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید برفباری کی پیشگوئی ہے۔
اپر دیر کے علاقے میں برفباری کی مقدار اب تک 2 فٹ تک بتائی جا رہی ہے۔
ہزارہ ایکسپریس وے پر شدید برفباری کے باعث گاڑیوں لی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
ضلع مردان کی تحصیل رستم اور مضافاتی علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش اور ژالہ باری جاری ہے۔
ژالہ باری سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیا جبکہ کھیتوں میں کھڑی فصلوں اور میوہ جات کے باغات کو نقصان کا خدشہ ہے۔
ادھر، پشاور میں گزشتہ روز سے جاری بارش کا سلسلہ تھم گیا جبکہ بارش سے سردی کی شدت بڑھنے سے درجہ حرارت 4 سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ بارش کے بعد سرد ہوائیں چلنے لگیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل ژالہ باری کالام میں رہی ہے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔