سانحہ گل پلازہ؛ سرچ آپریشن تقریباً مکمل، عمارت سروے کے بعد سیل کردی جائے گی، ڈی سی ساؤتھ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
کراچی:
ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی متاثرہ عمارت میں گزشتہ 9 روز سے جاری سرچ آپریشن تقریباً مکمل کرلیا گیا ہے اور ایک مرتبہ سروے ٹیم گل پلازہ کا دوبارہ جائزہ لے گی، جس کے بعد متاثرہ عمارت کو سیل کر دیا جائے گا جبکہ جاں بحق افراد کی تعداد 73 تک پہنچ گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر ضلع ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ گل پلازہ میں گزشتہ 9 روز سے جاری سرچ آپریشن تقریباً مکمل کرلیا گیا ہے، پیر کو ایک مرتبہ سروے ٹیم دوبارہ جائزہ لے گئی اور اس کے بعد متاثرہ عمارت کو سیل کر دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 73 اور لاپتا ہونے والے افراد کی فہرست 79 تک پہنچ گئی ہے، جن میں سے 13 افراد اب تک اپنے ڈی این اے جمع کرانے نہیں آئے ہیں اور نہ وہ رابطہ کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تک 55 افراد کے لواحقین کے ڈی این اے نمونے جمع کرائے ہیں جبکہ 13 افراد کے لواحقین کو پیر تک وقت دیا گیا ہے، اگر وہ پیر کو آجاتے ہیں تو ان کے نمونے حاصل کر لیے جائیں گے ورنہ ہم سمجیں گے وہ غلط لوگ تھے۔
جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ چند لواحقین کے تین،تین یا چار،چار لوگ بھی شامل ہیں اور 6 افراد کی شناخت پہلے ہی روز کرلی گئی تھی، اب تک ساںحہ گل پلازہ میں جاں بحق 23 افراد کی شناخت کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور اور میزنائن فرسٹ فلور مکمل کلئیر کر لیا گیا ہے، ایک حصہ ابھی باقی ہے، جس کوسرچ کیا جائے گا۔
ڈی سی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ متاثرہ عمارت میں جانے سے گریز کیا جائے، ہم نے مارکنگ بھی کی ہے۔
مزید پڑھیںسانحہ گل پلازہ؛ قتل کا مقدمہ حکومت کے خلاف ہونا چاہیے، تاجر رہنما
سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ نامعلوم افراد کیخلاف درج، غفلت اور لاپرواہی کی دفعات شامل
گل پلازہ کا 40 فیصد حصہ منہدم، شاپنگ کیلئے مشہور عمارت کی دردناک کہانی
جاوید نبی کھوسو نے مزید بتایا کہ 30لاشوں کا ڈیٹا حکومت کوبھیج دیا گیا،لاشوں کا ڈیٹا معاوضے کی ادائیگی کےلیے بھیجا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 30 لاشوں کی شناخت اورمکمل جانچ کے بعد ڈیٹا بھیج دیا گیا ہے اورورثا میں چیک جلد ہی تقسیم کیے جائیں گے۔
مقدمے کے بعد بیانات درج کرائے جا رہے ہیں، ایس ایس پی سٹی
ایس ایس پی سٹی عارف عزیزنے میڈیا کو بتایا کہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کا مقدمہ ایک روز قبل ہی درج کیا گیا ہے اور مقدمے کے اندراج کے بعد بیانات قلمبند کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ کے 6 گارڈز کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں، ہفتے کو 10 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں اور دوران تفتیش غفلت اور لاپرواہی سامنے آنے پر تمام پہلو سامنے لائے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمارت سے ملنے والے ڈی وی آر کا ڈیٹا بہت زیادہ ہے، ڈی وی آر کی مدد سے تفتیش میں مدد حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، گل پلازہ کے دروازے کیوں بند کیے گئے اور آگ لگنے کے بعد کیوں دروازے نہیں کھولے گئے اس پر بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جاوید نبی کھوسو نے ان کا کہنا تھا کہ سانحہ گل پلازہ متاثرہ عمارت گل پلازہ میں کہ گل پلازہ افراد کی بتایا کہ کے بعد گیا ہے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔