گورنر سندھ کامران ٹیسوری—’جیو نیوز‘ گریب

گورنر سندھ کامران ٹیسوری سانحۂ گل پلازہ کے شہید آفتاب کے گھر تعزیت کے لیے پہنچ گئے، جہاں انہوں نے شہید کے ورثاء سے اظہارِ تعزیت کیا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لواحقین کی مدد کرنا حکومت کا فرض ہے، لواحقین کو چکر نہ لگوائیں، کاؤنٹر بنا کر ان کی مدد کی جائے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ سیاست کرنا ہے تو ہم تیار ہیں لیکن پہلے 88 لاشوں کا جواب دیا جائے، کچھ بولتا ہوں تو ترجمانوں کا بیان آجاتا ہے، کہا جا رہا ہے کہ سانحۂ گل پلازہ پر بات نہ کی جائے۔ 

گورنر سندھ نے کہا کہ سانحۂ گل پلازہ نے اس شہر کے رہنے والے لوگوں کے دل دہلا دیے ہیں، جو کچھ وہاں ہوا اس پر سیاست نہیں کر رہے، لیکن یہ کون سی بات ہے کہ بات نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ مقصد یہ ہے کہ مٹی ڈالو دوسرے سانحے کا انتظار کرو، 47 سال پہلے والی لیز نکال لی لیکن یہ نہیں پتہ چل رہا کہ آگ کیسے لگی، اس شہر میں رہنے والے کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔ 

گورنر سندھ نے کہا کہ میں مقدمہ عوام میں لے کر آؤں گا، ٹیکس کے پیسوں سے پیسے دے رہے ہو، کون سا اپنی جیب سے دے رہے ہو، سانحۂ گل پلازہ میں جو شہید ہوا اس کے بچوں کی تعلیم کی ذمے داری لیتا ہوں۔ 

انہوں نے کہا کہ یہ سوال کیا جا رہا ہےکہ آگ کیوں نہیں بجھی؟ کون کب پہنچا؟ ریسکیو آپریشن کب شروع ہوا؟

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کون اس کوتاہی کا ذمے دار ہے؟ بس یہ دیکھنا ہے، جتنے لواحقین ہیں ان کے گھر جاؤں گا، میرےپاس سوٹ کیسز ہیں جن میں ثبوت ہیں، ڈیتھ سرٹیفکیٹ نہیں بن رہا، گھر کا چولہا نہیں جل رہا۔

انہوں نے کہا کہ آئیں اپنی جیب سے پیسے دینے کا اعلان کریں، میرے ملک کا حصہ لاہور ہے، وہاں انتظامیہ پرفارم کر رہی ہے، یہاں کچھ ہو ہی نہیں رہا ہے، آپ مشورہ کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ گل پلازہ رہا ہے

پڑھیں:

کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی

کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں نے کسٹمز انفورسمنٹ اسکواڈ پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں سپاہی جاوید احمد اور اے ایس آئی ساجد الاسلام جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ پاکستان کسٹمز کا ایک سپاہی زخمی ہوا، جسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کسٹمز کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں جاری ہیں۔

پاکستان کسٹمز کے مطابق دہشت گرد حملے کے بعد سرکاری انفورسمنٹ گاڑی کو آگ لگا دی گئی، جبکہ ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کسٹمز نے شہید سپاہی جاوید احمد اور شہید اے ایس آئی ساجد الاسلام کی عظیم قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء نے اسمگلنگ کے خلاف جنگ اور وطن کی معاشی سرحدوں کے تحفظ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

پاکستان کسٹمز نے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت، زخمی اہلکار کی جلد صحت یابی کے لیے دعا اور اسمگلنگ، دہشت گردی و جرائم کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے شہداء کی لازوال قربانیاں قوم کا سرمایہ ہیں، ان کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جائے گا، جبکہ پاکستان کسٹمز ملک کی معاشی سرحدوں کے تحفظ اور اسمگلنگ کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ مضامین

  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار