Express News:
2026-07-24@01:06:24 GMT

2025ء میں ہالی وڈ کی فلاپ قرار پانے والی فلمیں

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

بلاشبہ فلم شوبز کی مقبول ترین صنف ہے، جو ایک خوبصورت اور وسیع آرٹ ہے کیوں کہ اس میں تخلیقی صلاحیتوں اور فنکارانہ بصیرت کا سمندر موجزن ہے۔

اگرچہ فلم کا بنیادی مقصد معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے شائقین کو بہترین تفریح، تعلیم و آگاہی فراہم کرنا اور ان میں فکری تحریک پیدا کرنا ہے لیکن یہ آج ایک بہترین کاروبار ہے، جس میں بڑے بڑے سرمایہ کار پیسہ لگاتے ہیں تاکہ اپنے پیسے کو بڑھایا اور ایسا بیشتر ممکن بھی ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ہالی وڈ کی بات کی جائے تو رواں برس یعنی 2025ء میں ایک طرف Zootopia 2،  A Minecraft، Jurassic World: Rebirth، Superman،  Mission: Impossible - The Final Reckoning اور  Ne Zha 2جیسی فلموں نے باکس آفس پر کمائی کے نئے ریکارڈ بنا ڈالے تو دوسری طرف متعدد فلمیں ایسی بھی رہیں، جو جدید ترین ٹیکنالوجی، خطیر بجٹ اور نامور فنکاروں کی موجودگی کے باوجود اپنا جادو نہ چلا سکیں۔ اگرچہ باکس آفس پر ناکامی کسی بھی فلم کے فنی معیار یا تخلیقی عظمت کا حتمی پیمانہ نہیں ہوتی، تاہم یہ حقیقت ضرور عیاں کرتی ہے کہ ناظرین کی دلچسپی اس کہانی، پیشکش اور تجربے سے کس حد تک وابستہ رہی۔ آئیے اب نظر ڈالتے ہیں ہالی وڈ کی اْن دس فلموں پر جنہیں باکس آفس کی زبان میں ’’بم‘‘ یا فلاپ قرار دیا گیا۔

ٹرون: ایریز (Ares: Tron)

بجٹ: 220 ملین ڈالر، باکس آفس کمائی: 142.

2 ملین ڈالر

ٹرون ایک ایسی فرنچائز ہے، جو اگرچہ متاثر کن بصری انداز اور ایک نئی دنیا کی تخلیق کے نظریے کی بدولت یقینی طور پر اپنے اندر ایک خاص دلچسپی سموئے ہوئے ہے، لیکن باکس آفس پر یہ کبھی بھی پُرکشش نہیں رہی۔ پہلی فلم ٹرون اور پھر ٹرون: لیگسی دونوں کو ریلیز ہونے پر باکس آفس میں کوئی خاص مقبولیت حاصل نہ ہوئی تاہم انہیں ٹرون کی دنیا سے محبت کرنے والے ناظرین کے ساتھ ایک مقام ضرور ملا۔ لیکن اس بار تو پُرجوش ٹرون مداحوں نے بھی Joachim Rønning کی ہدایت کاری میں 8 اکتوبر 2025ء کو ریلیز ہونے والی اس نئی فلم ٹرون: ایریز سے متعلق اپنی مایوسی اور عدم دلچسپی کا اظہار کیا۔ جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود یہ فلم اپنی روایت کو نہ بدل سکی، کیوں کہ اس میں کہانی سے لے کر کرداروں تک ہر چیز میں جھول محسوس کیا گیا۔ یوں ناقدین یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اس فلم کے بعد شائد ٹرون فرنچائز ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی ہے۔

سنو وائٹ (White Snow)

بجٹ: 269 ملین ڈالر، باکس آفس کمائی: 205 ملین ڈالر

ناقدین کے مطابق 2025ء کی سب سے متنازع اور وسیع پیمانے پر ناپسند کی جانے والی بڑی اسٹوڈیو ریلیزز میں سے ایک ’’سنو وائٹ‘‘ فلم تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اپنی کلاسک اینیمیٹڈ کہانیوں کی ڈزنی کی بدنام زمانہ بری لائیو ایکشن ریمیکس میں سے ایک ہے، اور اگرچہ اس فرنچائز کی کئی فلموں نے باکس آفس پر بڑی کامیابیاں حاصل کیں، لیکن اس فلم سے شائقین کو مایوسی ہوئی۔ بہترین ہدایت کاری اور فنکارانہ شاہلکار رکھنے والی یہ فلم عمومی طور پر ان لائیو ایکشن ریمیکس سے محبت کرنے والے ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ فلم کی 205 ملین ڈالر کی کل کمائی اتنی بری نہیں لگتی جب تک کہ کوئی اس کے دیو ہیکل بجٹ کو نہ دیکھے، جس نے اس میں منافع کے حصول کو تقریباً ناممکن بنا دیا۔

ایلیو (Elio)

بجٹ: تقریباً 200 ملین ڈالر، باکس آفس کمائی: 154 ملین ڈالر

اگرچہ ڈزنی کی اینیمیٹڈ فرنچائز سیکوئلز جیسے زوٹوپیا2 اور ان سائیڈ آؤٹ 2 جدید دور کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی اور کامیاب اینیمیٹڈ فلموں میں شامل ہیں لیکن ناظرین نے ’’ایلیو‘‘ سے متعلق جوش و خروش نہیں دکھایا۔ فلم کو ضرور ان نقادوں اور ناظرین نے سراہا اور پسند کیا جنہوں نے اسے دیکھا، لیکن افسوس کہ ڈزنی نے ناظرین کو یہ تربیت دے دی ہے کہ ان فلموں کو تھیٹر میں دیکھنا چھوڑنا آسان اور قابل قبول ہے اور انہیں ڈزنی پر ریلیز ہونے پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اور یہی شائد اس کی ناکامی کی وجہ بنی۔ ’’ایلیو‘‘ مجموعی طور پر ابتدائی ریلیز سے ہی بدانتظامی کا شکار رہی۔ اپنے ابتدائی ٹریلر کے آنے کے ایک سال بعد تاخیر سے لے کر فلم ’’ان سائیڈ آؤٹ 2‘‘ کے لیے جگہ بنانے اور اس کی ناقص حکمت عملی پر مشتمل تشہیر تک بدانتظامی کا شکار رہی۔ ’’ایلیو‘‘ ڈزنی کی اینیمیٹڈ موویز کی باکس آفس پر ناکامیوں کی ایک طویل فہرست میں تازہ اضافہ ہے۔

آفٹر دی ہنٹ ( Hunt After the)

بجٹ: 70-80 ملین ڈالر، باکس آفس کمائی: 7.1 ملین ڈالر

لوکا گوادگنینو (Luca Guadagnino) عصر حاضر کے ایک مقبول اطالوی فلم ڈائریکٹر بن کر ابھرے ہیں، جن کی ’’بونز اینڈ آل‘‘، ’’کال می بائی یور نیم‘‘، اور ’’چیلنجرز‘‘ جیسی فلموں نے انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کیا ہے۔ تاہم ’’آفٹر دی ہنٹ‘‘ میں انہیں حیرت انگیز طور پر بہت بڑی ناکامی کا سامنا رہا کیوں کہ 70 سے80 ملین ڈالر لاگت والی فلم 7،8 ملین کی کمائی سے آگے نہ بڑھ سکی۔

مکی 17 (17 Mickey )

بجٹ: 118 ملین ڈالر، باکس آفس کمائی:133.3 ملین ڈالر

مکی 17 اس فہرست میں شامل وہ بدنصیب فلم ہے، جو اپنی لاگت تو پوری کرنے میں کامیاب ہو گئی، لیکن اسے بھی عوامی سطح پر مقبولیت کی وہ سند نہ مل سکی، جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ جنوبی کورین فلم ساز بونگ جون ہو کی یہ فلم اپنے شائقین کو شائد خود سے جوڑ نہ سکی۔ بونگ جون ہو نے اپنی فلم ’’پیراسائٹ‘‘ کے لئے اکیڈمی ایوارڈ کی جیت کے بعد مکی 17 کا جواء کھیلا، جو ناقدین کی نظر میں ناکام رہا۔

دی رننگ مین (The Running Man)

بجٹ: 110 ملین ڈالر، باکس آفس کمائی: 68.4 ملین ڈالر

دی رننگ مین نہ صرف 80ء کی دہائی کی کلاسک ایکشن فلم کا جدید ری میک بلکہ اصل اسٹیفن کنگ ناول سے زیادہ قریب پائی گئی، جس کی بدولت اسے ناظرین اور نقادوں نے یکساں طور پر پسند کیا، لیکن یہ حیرت انگیز طور پر اپنے زیادہ بجٹ کا بوجھ نہ اٹھا سکی۔ہالی وڈ سٹار گلین پاول کی یہ فلم معروف ڈائریکٹر ایڈگر رائٹ کی ہدایت کاری میں بنائی گئی لیکن باکس آفس پر متاثر کن کارکردگی نہ دکھا سکی۔ جس کی ایک وجہ شائد اس کے ریلیز ہونے کے ساتھ ہی ’’ناؤ یو سی می: ناؤ یو ڈونٹ‘‘ اور’’وِکڈ: فار گڈ‘‘ جیسی فلموں کا ریلیز ہونا تھا۔

کرسٹی (Christy)

بجٹ: 15 ملین ڈالر، باکس آفس کمائی: 2.0 ملین ڈالر

معروف امریکن خاتون باکسر کرسٹی مارٹن کی زندگی پر بننے والی اس دستاویز فلم کو باکس آفس تک پہنچنے میں کئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کہانی میں جان نظر آئی نہ کرداروں میں، فلم کا مجموعی تاثر اچھا نہیں رہا، جس کے باعث یہ شائقین کو زیادہ پسند نہیں آئی اور اس کا نتیجہ ناکامی کی صورت میں برآمد ہوا۔

دی آلٹو نائٹس (The Alto Knights)

بجٹ: 45 ملین ڈالر، باکس آفس کمائی: 10.2 ملین ڈالر

اگرچہ وارنر برادرز نے 2025ء میں زیادہ تر باکس آفس پر اپنے سب سے کامیاب اور قابل ذکر سالوں میں سے ایک گزارا، لیکن ’’دی آلٹو نائٹس‘‘ ان کی چند ناکامیوں میں سے ایک کے طور پر نظر آئی۔ اس کرائم فلم میں رابرٹ ڈی نیرو دوہرا کردار ادا کرتے ہیں، جو نیویارک کے دو بدنام زمانہ جرائم کے سرغنوں کی کہانی بیان کرتی ہے جو شہر کی گلیوں پر کنٹرول کے لیے لڑتے ہیں۔ ان کی مسلسل دشمنی اور جنگ پورے نیویارک کرائم سنڈیکیٹ کو الٹ پلٹ کرنے کی دھمکی دیتی ہے۔ ناظرین نے فلم کو قابل قدر نہیں پایا۔

دی سمیشنگ مشین (The Smashing Machine)

بجٹ: 50 ملین ڈالر، باکس آفس کمائی: 20.3 ملین ڈالر

یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ڈوائین جانسن باکس آفس میں کامیابی کی ایک علامت رہے ہیں، جنہوں نے کئی فرنچائزز کو اربوں ڈالر کما کر دیئے اور جدید بلاک بسٹرز کے لیے ایک مثال بن گئے۔ تاہم دی سمیشنگ مشین میں ایسا کچھ نہ ہو سکا۔ اگرچہ یہ فیصلہ ابھی باقی ہے کہ آیا جانسن کو اس فلم کے لیے نامزدگی ملے گی، لیکن دنیا بھر کے ناظرین جانسن کے اس فلم کے کردار سے متفق نہ ہوئے۔ باکس آفس کی اس مایوسی کی ایک بڑی وجہ فلم کا اصل معیار سے کم اور ناظرین کی جانسن کی فلموں سے وابستہ توقعات کو قرار دیا جا رہا ہے۔

ہری اپ ٹومورو ( Tomorrow Up Hurry )

بجٹ: 15 ملین ڈالر، باکس آفس کمائی: 7.7 ملین ڈالر

ایسے وقت میں جب ’’ٹیلر سوئفٹ: دی ایراز ٹور‘‘ جیسی کنسرٹ فلمیں عالمی باکس آفس پر 260 ملین ڈالر سے زیادہ کمائی کر رہی ہوں، یہ سمجھ میں آتا ہے کہ دوسرے پاپ اسٹار بھی سینمائی کامیابی کی کوشش کریں۔ تاہم ’’ہری اپ ٹومورو‘‘ گلوکار و نغمہ نگار دی ویکنڈ کے تازہ البم کے لیے محض ایک معاون فلم سے کچھ زیادہ ثابت نہ ہوئی، جسے اسٹار ڈائریکٹر ٹری ایڈورڈ شلٹس نے ہدایت کاری دی تھی۔ فلم میں دی ویکنڈ کے پرجوش ترین مداحوں کے علاوہ کسی اور کے لیے کم ہی دلکشی رہی۔ فلم میں دی ویکنڈ کی نفسیاتی اذیت کی کڑوی اور انا پرستی پر مشتمل کہانی عام ناظرین کے لیے بے لطف اور غیر دلچسپ ثابت ہوئی۔  

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: باکس ا فس کمائی باکس ا فس پر ہدایت کاری ریلیز ہونے میں سے ایک شائقین کو ملین ڈالر ہالی وڈ فلم کے فلم کا اور ان کی ایک کے لیے اس فلم یہ فلم

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی