Islam Times:
2026-06-02@22:27:58 GMT

داعش کے قیدیوں کی عراق منتقلی کے پوشیدہ مقاصد

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

داعش کے قیدیوں کی عراق منتقلی کے پوشیدہ مقاصد

اسلام ٹائمز: عراقی سیاسی تجزیہ کار عقیل عباس کا خیال ہے کہ قیدیوں کو عراق منتقل کرنے کی ایک اہم وجہ یورپی ممالک کیطرف سے اپنے شہریوں کو قبول کرنے سے انکار ہے۔ کیونکہ اگر ان پر یورپ میں مقدمہ چلایا جائے تو انکی رہائی کا امکان بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے جمعہ کو یوٹیوب پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ یورپی عدالتیں درست اور دستاویزی ثبوتوں پر انحصار کرتی ہیں، نہ کہ اعترافات پر جو بعض اوقات دباؤ یا جبر کے تحت حاصل کیے جاتے ہیں۔ عباس نے وضاحت کی کہ یہ افراد شام میں لڑے تھے اور اس لیے انکے پاس یورپی عدالتوں کے پاس کافی ثبوت نہیں ہیں۔ نیز دائرہ اختیار کی وجوہات کی بناء پر یورپ کیلئے شام کی براہ راست تحقیقات کرنا ممکن نہیں ہے۔ تحریر: شایان ودودیان

شام کے شمال مشرقی علاقوں میں قید داعش قیدیوں کو جولانی اور قسد کے درمیان معاہدہ کے بعد رہا کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ قسد اور جولانی فورسز کی لڑائی کے دوران کئی داعشی فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ دوسری جانب امریکی دباؤ کے تحت داعش کے قیدیوں کی شام سے عراق منتقلی نے اس فیصلے کی سلامتی، قانونی اور سیاسی جہتوں کے بارے میں وسیع بحث کو جنم دیا ہے۔ ایک ایسا فیصلہ جسے بغداد قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ایک پیشگی قدم سمجھتا ہے، جبکہ ناقدین اس کے عدالتی نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے خبردار کر رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے گذشتہ بدھ کو داعش کے قیدیوں کو شام سے عراق منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک ایسا اقدام جس نے غیر ملکی قیدیوں کو ان کے ممالک میں واپس بھیجنے کی بجائے عراقی سرزمین کو منتخب کرنے کی وجہ کے بارے میں وسیع بحث کو جنم دیا اور یہ بھی کہ منتقلی صرف عراقی قیدیوں تک محدود ہوگی یا نہ۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے بدھ کو ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس منتقلی کا مقصد "حراستی مراکز میں دہشت گردوں کی محفوظ حراست کو یقینی بنانا ہے۔" CENTCOM نے اس بات پر زور دیا کہ وہ داعش کے 150 ارکان کو عراق میں محفوظ مقام پر منتقل کرنے میں کامیاب رہیں ہیں، جنہیں شام کے شہر الحسکہ میں ایک حراستی مرکز میں رکھا گیا تھا۔ سینٹ کام کے بیان کے مطابق شام سے عراقی حکومت کے زیر کنٹرول حراستی مراکز میں منتقل کیے جانے والے داعش کے قیدیوں کی کل تعداد تقریباً 7000 تک پہنچنے کی توقع ہے۔

عراقی حکومت کا موقف
اس سلسلے میں عراقی حکومت کے ترجمان باسم العوادی نے اعلان کیا کہ داعش کے قیدیوں کی شام سے عراق منتقلی عراق کی قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ایک پیشگی اقدام ہے۔ اس کے بعد عراقی عدلیہ نے داعش کے ارکان کے پہلے گروپ کے بارے میں تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ ان افراد کو وزارت انصاف سے منسلک جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے اور ان پر عدالتی طریقہ کار کے مطابق مقدمات چلائے جائیں گے، جس میں متاثرین کے حقوق کی ضمانت موجود ہے۔ بیان کے مطابق تمام مدعا علیہان پر صرف اور صرف عراقی عدالتی نظام کے دائرہ اختیار میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

خفیہ اہداف
واشنگٹن کی کارروائی کی وجوہات کے بارے میں، عراقی سیاسی تجزیہ کار یحییٰ الکبیسی نے Arabi21 ویب سائٹ کو بتایا کہ شام میں حالیہ پیش رفت کے بعد امریکہ ان قیدیوں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے پر مجبور ہے۔ تاہم، غویران اور روز جیلیں، جہاں  زیادہ تر داعشیوں کو رکھا گیا ہے، وہ اب بھی مؤثر طریقے سے شامی کرد ملیشیا (SDF) کے کنٹرول میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ امریکہ نے عراق پر ان قیدیوں کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے، خاص طور پر چونکہ ان میں سے تقریباً سولہ سو عراقی ہیں۔ ساتھ ہی، الکبیسی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ اس مسئلے کو سیاسی سے زیادہ سکیورٹی کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ الکبیسی نے مزید کہا کہ ان کا خیال ہے کہ اس بات کا امکان نہیں ہے کہ عراق آئی ایس آئی ایس کے تمام قیدیوں کو قبول کرے گا، کیونکہ ان میں تقریباً 1500 غیر ملکی اور 4500 شامی ہیں۔ یہ افراد سنگین قانونی اور سیاسی چیلنجز پیدا کرسکتے ہیں۔

اس کے برعکس، عراقی سیاسی تجزیہ کار عقیل عباس کا خیال ہے کہ قیدیوں کو عراق منتقل کرنے کی ایک اہم وجہ یورپی ممالک کی طرف سے اپنے شہریوں کو قبول کرنے سے انکار ہے۔ کیونکہ اگر ان پر یورپ میں مقدمہ چلایا جائے تو ان کی رہائی کا امکان بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے جمعہ کو یوٹیوب پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ یورپی عدالتیں درست اور دستاویزی ثبوتوں پر انحصار کرتی ہیں، نہ کہ اعترافات پر جو بعض اوقات دباؤ یا جبر کے تحت حاصل کیے جاتے ہیں۔ عباس نے وضاحت کی کہ یہ افراد شام میں لڑے تھے اور اس لیے ان کے پاس یورپی عدالتوں کے پاس کافی ثبوت نہیں ہیں۔ نیز دائرہ اختیار کی وجوہات کی بناء پر یورپ کے لیے شام کی براہ راست تحقیقات کرنا ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ اس کی سیاسی وجوہات بھی ہیں۔ یورپی حکومتیں نہیں چاہتیں کہ یہ کیسز ان کے ممالک میں اٹھائے جائیں، کیونکہ اس کی میڈیا کوریج انتہائی دائیں بازو کی امیگریشن مخالف لہروں کو مضبوط کرنے کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر فرانس جیسے ممالک میں۔ عباس کے مطابق قیدیوں کی عراق منتقلی امریکی دباؤ کے تحت کی گئی، کیونکہ یہ واشنگٹن کی طرف سے پہلا باضابطہ اعلان تھا اور عراقی حکام ابتدا میں خاموش تھے۔ امریکی نقطہ نظر سے، یہ اختیار ایس ڈی ایف اور شامی باغی حکومت کے درمیان متنازعہ علاقوں میں قیدیوں کو چھوڑنے کے مقابلے میں کم مہنگا ہے، جہاں سے ان کے فرار ہونے کا خطرہ زیادہ ہے۔ انہوں نے عراق میں ان افراد کے خلاف مقدمے کے آغاز کے اعلان پر بھی شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رائے میں عراق کے پاس ایسے غیر ملکی جنگجوؤں پر مقدمات چلانے کا اختیار نہیں ہے، جن کے جرائم شام کی سرزمین پر ہوئے ہیں، کیونکہ ان افراد کو SDF نے حراست میں لیا تھا اور انہوں نے عراقی سرزمین پر کوئی سرگرمی نہیں کی تھی۔

قانونی ٹرائل
ان خیالات کے برعکس عراقی ماہر قانون علی التمیمی نے "Arabi21" کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عراق کو ان قیدیوں پر مقدمات چلائے جانے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ عراقی تعزیرات کے آرٹیکل 6 اور 9، ضابطہ فوجداری کے آرٹیکل 53 اور سول کوڈ کے آرٹیکل 14 اور 15 کی بنیاد پر، عراق میں ہونے والا کوئی بھی جرم، چاہے مرتکب عراقی ہو یا غیر ملکی، عراقی قانون کے تابع ہے۔ التمیمی نے مزید کہا: عراق سے باہر ہونے والے جرائم بھی، اگر ان سے عراق کی قومی سلامتی متاثر ہوئی ہو، تو تعزیرات کے آرٹیکل 9 کے مطابق عراقی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ ان قیدیوں کے اصل ممالک نے انہیں قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، عراق میں ان کا ٹرائل ممکن ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان افراد کے لیے بین الاقوامی عدالت کے قیام کے لیے سلامتی کونسل کے فیصلے اور عراق یا شام کی جانب سے باضابطہ درخواست کی ضرورت ہوگی اور اس میں سب سے اہم رکاوٹ ایسی عدالتوں کے زیادہ اخراجات ہیں۔ ان کے بقول عراق مدعا علیہ ممالک سے مقدمے کے اخراجات کا مطالبہ بھی کرسکتا ہے۔ ان قیدیوں کے اہل خانہ اور رشتہ داروں کے بارے میں، التمیمی نے زور دے کر کہا کہ تفتیش اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا انہوں نے جرائم میں حصہ لیا، حمایت کی یا پناہ دی اور اگر ایسا ہے تو قانون کے مطابق، ساتھی کی سزا وہی ہوگی، جو مرکزی مجرم کی ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: داعش کے قیدیوں کی میں مقدمہ چلایا عراق منتقلی نے مزید کہا کے بارے میں ان قیدیوں کے آرٹیکل قبول کرنے اعلان کیا قیدیوں کو کہا ہے کہ غیر ملکی ان افراد کے مطابق انہوں نے کو قبول کرنے کی نہیں ہے پر یورپ کے لیے اس بات کے تحت کے پاس شام کی

پڑھیں:

دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ

پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ون ڈے میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لاہور میں کھیلے جارہے میچ میں پاکستان ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے جبکہ آسٹریلوی ٹیم میں ایک تبدیلی ہوئی ہے۔

???? TOSS & PLAYING XI ????

Pakistan win the toss and opt to field first ????

Unchanged team for the second ODI ????????

➡️ Download #PCBLIVE app now ????
Google Play Store: https://t.co/5mBlUcoG8g
Apple App Store: https://t.co/RpeYQPshnh
Watch Live: https://t.co/M8wsOD8omx#PAKvAUS |… pic.twitter.com/fj13lMs1Wv

— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) June 2, 2026

آسٹریلیا نے بلی اسٹینلیک کی جگہ ایڈم زیمپا کو ٹیم میں شامل کیا ہے۔

پاکستان ٹیم کو تین ون ڈے میچز کی سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل ہے۔

پہلے میچ میں پاکستان ٹیم نے 5 وکٹوں سے با آسانی فتح حاصل کی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود