قطر میں امریكہ اور خلیج فارس کے ممالک کی فوجی مشق کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
اس مشق کا مقصد خطے میں سیکورٹی کی تیاری کو بہتر بنانا، افواج کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط کرنا اور ہنگامی حالات میں ردعمل کے طریقہ کار کو جانچنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ GCC کے رکن ممالک اور امریکی افواج کی مشترکہ عسکری مشق، قطر میں شروع ہوگئی ہے۔ اس مشق کا نام سیکورٹی 4 رکھا گیا ہے۔ اس مشق کا آغاز اتوار کے روز ہوا، جو 11 دن تک جاری رہے گی۔ اس مشق میں امریکی فوجی یونٹ کے علاوہ خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کی سیکورٹی فورسز شریک ہیں۔ جو 70 سے زائد مختلف نوعیت کے سیکورٹی آپریشن کی پریکٹس کریں گی۔ سیکورٹی 4 کی افتتاحی تقریب میں قطر کے نائب وزیر داخلہ "عبداللہ بن خلف الکعبی" سمیت اعلیٰ سکیورٹی حکام اور افسران شریک ہوئے۔ اس مشق کا مقصد خطے میں سیکورٹی کی تیاری کو بہتر بنانا، افواج کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط کرنا اور ہنگامی حالات میں ردعمل کے طریقہ کار کو جانچنا ہے۔
قطری ذرائع کے مطابق، یہ مشق خلیجی ممالک کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور جدید دفاعی توانائی کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ عرب ممالک کی اسٹریٹجک پارٹنر شپ اور عسکری تعاون کے باوجود، ان ممالک کی سلامتی ہمیشہ خطرے سے دوچار رہی ہے۔ 2025ء میں دوحہ پر اسرائیل کا جان لیوا حملہ اس بات کی واضح مثال ہے۔ لیکن امریکہ و اسرائیل برسوں سے نہایت چالاکی کے ساتھ عربوں کو یہ سبق یاد دلاتے آ رہے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران، عرب دنیا کا واحد دشمن ہے۔ درحقیقت گزشتہ واقعات اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ عربوں کو واشنگٹن و تل ابیب کے سوا کسی سے کوئی خطرہ نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔