Jasarat News:
2026-07-24@04:22:53 GMT

آن لائن پڑھتی ہوں۔

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

خیبر پختونخوا کے شہر دیر بالا سے تعلق رکھنے والی شمائلہ کے والد یوسف علی شاہ پاکستان فضائیہ کے سابق ملازم ہیں۔ وہ لواری ٹنل کے قریب واقع اپنی چھوٹی سی دکان میں مکئی کے دانے بھونتے اور خشک میوہ جات کے پیکٹ تیار کرتے ہیں، جنہیں شمائلہ فروخت کرتی ہیں۔شمائلہ خان سکول نہیں جاتیں، لیکن فرفر انگریزی بولنے سمیت دیگر زبانوں کے بھی کچھ فقرے بول سکتی ہیں۔شمائلہ سے جب پوچھا گیا کہ آپ سکول کیوں نہیں جاتیں تو کہنے لگیں: ’کون کہتا ہے کہ میں نہیں پڑھتی؟ میں پڑھتی ہوں اور گھر میں آن لائن پڑھتی ہوں۔ سکول کچھ بھی نہیں ہے، جب انٹرنیٹ ہے تو سب کچھ ہے۔‘شمائلہ کے والد یوسف نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ تعلیم کے طریقہ کار کو، اس کے نظریے کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’شمائلہ سکول نہیں جاتی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ گھر میں آن لائن جو وہ سیکھتی ہے، ایسا وہ سکول میں نہیں سیکھ سکتی۔‘زبانوں کے حوالے سے یوسف نے بتایا انہیں بھی مختلف زبانیں سیکھنے کا شوق ہے اور اب وہ اور شمائلہ کلاس میٹ بھی ہیں تو ایک دوسرے سے زبانیں سیکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ بول کر پریکٹس کرتے ہیں۔ نرسوں اور وارڈ بوائز کو باڈی کیم لگانے پر اعتراض پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے پیرا میڈیکل سٹاف کو باڈی کیم لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مگر اس فیصلے نے مریضوں کی پرائیویسی سمیت کئی خدشات کو جنم دیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اس میں نرس، وارڈ بوائے، فارمیسی یا سکیورٹی پر مامور عملہ شامل ہو گا۔ یہی نہیں بلکہ ڈاکٹرز اور نرسوں کے دوران ڈیوٹی موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں کی وجہ عوامی شکایات ہیں جن میں انتظامی مسائل، بدعنوانی یا سکیورٹی پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ گذشتہ برسوں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن میں مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے ڈاکٹروں سمیت ہسپتال کے عملے کے ساتھ جھگڑے ہوئے۔

ویب ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف