Jasarat News:
2026-06-02@23:50:56 GMT

آن لائن پڑھتی ہوں۔

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

خیبر پختونخوا کے شہر دیر بالا سے تعلق رکھنے والی شمائلہ کے والد یوسف علی شاہ پاکستان فضائیہ کے سابق ملازم ہیں۔ وہ لواری ٹنل کے قریب واقع اپنی چھوٹی سی دکان میں مکئی کے دانے بھونتے اور خشک میوہ جات کے پیکٹ تیار کرتے ہیں، جنہیں شمائلہ فروخت کرتی ہیں۔شمائلہ خان سکول نہیں جاتیں، لیکن فرفر انگریزی بولنے سمیت دیگر زبانوں کے بھی کچھ فقرے بول سکتی ہیں۔شمائلہ سے جب پوچھا گیا کہ آپ سکول کیوں نہیں جاتیں تو کہنے لگیں: ’کون کہتا ہے کہ میں نہیں پڑھتی؟ میں پڑھتی ہوں اور گھر میں آن لائن پڑھتی ہوں۔ سکول کچھ بھی نہیں ہے، جب انٹرنیٹ ہے تو سب کچھ ہے۔‘شمائلہ کے والد یوسف نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ تعلیم کے طریقہ کار کو، اس کے نظریے کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’شمائلہ سکول نہیں جاتی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ گھر میں آن لائن جو وہ سیکھتی ہے، ایسا وہ سکول میں نہیں سیکھ سکتی۔‘زبانوں کے حوالے سے یوسف نے بتایا انہیں بھی مختلف زبانیں سیکھنے کا شوق ہے اور اب وہ اور شمائلہ کلاس میٹ بھی ہیں تو ایک دوسرے سے زبانیں سیکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ بول کر پریکٹس کرتے ہیں۔ نرسوں اور وارڈ بوائز کو باڈی کیم لگانے پر اعتراض پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے پیرا میڈیکل سٹاف کو باڈی کیم لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مگر اس فیصلے نے مریضوں کی پرائیویسی سمیت کئی خدشات کو جنم دیا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اس میں نرس، وارڈ بوائے، فارمیسی یا سکیورٹی پر مامور عملہ شامل ہو گا۔ یہی نہیں بلکہ ڈاکٹرز اور نرسوں کے دوران ڈیوٹی موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں کی وجہ عوامی شکایات ہیں جن میں انتظامی مسائل، بدعنوانی یا سکیورٹی پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ گذشتہ برسوں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن میں مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے ڈاکٹروں سمیت ہسپتال کے عملے کے ساتھ جھگڑے ہوئے۔

ویب ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی