واشنگٹن: پاکستان کی شاندار سفارتی کامیابی، عالمی جریدے کی تعریفیں
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈ یسک) پاکستان نے اسٹریٹجک سمجھ داری سے واشنگٹن میں خود کو دوبارہ ایک ناگزیر اور قابل اعتماد شراکت دار ثابت کر دیا، اپنی مضبوط سفارت کاری سے پاکستان نے امریکا کے ساتھ تعلقات کو نئی سمت دے دی۔ پاکستان نے علاقائی تنازع کو عالمی سفارتی فائدے میں بدل کر امریکا میں اپنی اہمیت منوائی ہے۔ بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ نے بھی پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی تعریف میں پل باندھ دیے۔ دی ڈپلومیٹ کے مطابق بھارت جو امریکا کا اتحادی سمجھا جاتا تھا، اب 50 فیصد امریکی ٹیرف اور صدارتی دورے سے محرومی کا شکار ہے۔ مئی 2025 کے پاک بھارت تنازع پر امریکی ثالثی کے دعوے کو بھارت کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد تعلقات گہری منجمد کیفیت میں داخل ہوگئے ہیں۔دی ڈپلومیٹ کے مطابق اسی بحران کو پاکستان نے سفارتی موقع میں بدلا اور صدر ٹرمپ کے ثالثی کردار کو بھرپور انداز میں سراہا، 4 روزہ پاک بھارت جنگ کے بعد صدر ٹرمپ نے پاکستانی آرمی چیف کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا۔عالمی جریدے کے مطابق ستمبر 2025 میں وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا، ٹرمپ اور عاصم منیر کے درمیان گفتگو سیکیورٹی سے آگے بڑھ کر تجارت اور سرمایہ کاری تک پھیل گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان نے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :