بھارت نے روسی تیل کی خریداری کم کردی ہے‘امریکی حکام
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260126-01-8
واشنگٹن (آن لائن)امریکی ٹیرف پابندیوں کے باعث بھارت کی منافقانہ پالیسیز اور نام نہادخود مختار خارجہ پالیسی بے نقاب‘نام نہاد خودمختار خارجہ پالیسی کا دعویدار بھارت عالمی سفارتی تنہائی اوربڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کا شکارہوگئی۔عالمی فورمز پر غیر جانبداری کا دعوی کرنے والا بھارت امریکی معاشی پابندیوں کے سامنے مکمل سرنگوں ہو چکا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا تھا کہ امریکی ٹیرف پابندی کے بعد بھارت نے روسی تیل کی خریداری کم کردی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ امریکی دباؤ کے باعث بھارتی ریفائنریوں کی روسی تیل کی درآمد میں کمی امریکی پالیسی کی کامیابی ہے، بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عاید کرنے کے مثبت نتائج منظر عام پر آ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی معاشی دباؤ اور پابندیوں پر عمل درآمد نے بھارت کے وشو گرو بننے کے خواب کو شدید نقصان پہنچایا ہے، بھارت کا نام نہاد خود مختاری کا بیانیہ امریکی پابندیوں کے سامنے زمیں بوس ہو چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔