اسٹیٹ بینک آج مانیٹری پالیسی جاری کرے گا، شرح سود سنگل ڈیجنٹ میں آنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نئے سال کی پہلی مانیٹری پالیسی اسٹیٹ بینک آج جاری کرے گا۔ مانیٹری پالیسی میں بنیادی شرح سود سنگل ڈیجیٹ میں آنے کا امکان ہے۔مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس اسٹیٹ بینک ہیڈ آفس کراچی میں ہوگا۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی معاشی اشاریوں اور مہنگائی کا جائزہ لیکر بنیادی شرح سود کا تعین کرے گی۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد مانیٹری پالیسی کااعلان پریس کانفرنس میں کریں گے۔
یاد رہے کہ دو 2025 کی آخری مانیٹری پالیسی میں اسٹیٹ بینک نے بنیادی شرح سود آدھا فیصد کم کی تھی۔ اس وقت اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ ساڑھے 10 فیصد ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ لاسٹ ٹریژری بلز نیلامی میں بنیادی شرح سودمیں کمی کا اشارہ موجود ہے۔ 4 سال بعد بینکوں سے لئے جانے والے حکومتی قرض پر شرح سود سنگل ڈیجٹ میں آچکی ہے۔ سروے کے مطابق ٹریژری بلز پر شرح سود سنگل ڈیجٹ پر آنے سے بنیادی شرح سود بھی نیچے آنے کا امکان ہے۔ماہرین کے مطابق زرمبادلہ ذخائر مستحکم ، مہنگائی قابو میں اور ترسیلات زربڑھ رہی ہیں۔ اسٹیٹ بینک بنیادی شرح سود میں آدھے سے ایک فیصد کمی کمی کرسکتا ہے۔
حسین حمید نے سالانہ جمخانہ گالف چیمپئن شپ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: مانیٹری پالیسی بنیادی شرح سود شرح سود سنگل اسٹیٹ بینک
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔