حافظ نعیم الرحمن کا اہم خطاب
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کے حالیہ خطاب نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ آیا مغرب کی پیش کردہ جمہوریت واقعی انسانیت کی نجات کا ذریعہ ہے یا محض طاقتور ریاستوں کے مفادات کا تحفظ کرنے والا نظام۔ اسلام آباد میں اسلامی جمعیت طلبہ کے احباب کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جس دوٹوک انداز میں مغربی جمہوریت کو اجارہ داری اور ظلم پر مبنی نظام قرار دیا، وہ نہ صرف سیاسی بلکہ فکری سطح پر بھی توجہ کا متقاضی ہے۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ جمہوریت کے نام پر دنیا کے مختلف خطوں، خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں ایسے نظام نافذ رہے ہیں جن میں عوام کو محض ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا، جبکہ اقتدار، وسائل اور فیصلے محدود اشرافیہ کے ہاتھ میں مرتکز رہے۔ حافظ نعیم الرحمن کا یہ مؤقف کہ مغرب کی پشت پناہی سے پاکستان سمیت کئی ممالک میں بدترین جمہوریت مسلط ہے، دراصل اسی تضاد کی نشاندہی کرتا ہے جہاں جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر عوامی حقوق کو سلب کیا جاتا ہے۔ ان کا زور اس نکتے پر بھی تھا کہ ملک میں گزشتہ چار دہائیوں سے طلبہ یونین پر پابندی نے نچلی سطح پر قیادت کے ارتقا کو روک دیا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ تعلیمی اداروں میں جمہوری سرگرمیوں کا فقدان مجموعی سیاسی جمود کو جنم دیتا ہے۔ طلبہ یونین پر پابندی محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ اس سوچ کی عکاسی ہے جو نوجوانوں کو بااختیار دیکھنے کے بجائے انہیں غیر مؤثر رکھنا چاہتی ہے۔ اگر تعلیمی اداروں میں شفاف طلبہ انتخابات ہوں تو نئی قیادت سامنے آ سکتی ہے، جو مستقبل کی سیاست میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کا بنگلا دیش سے متعلق بیان بھی ایک اہم پہلو اجاگر کرتا ہے۔ ماضی کی تلخیاں اپنی جگہ، مگر بنگلا دیش میں اسلامی جمعیت طلبہ کی انتخابی کامیابی اور عوامی سطح پر پاکستان کے لیے موجود جذبات اس بات کا ثبوت ہیں کہ قوموں کے رشتے محض سیاسی سرحدوں سے محدود نہیں ہوتے۔ یہ پیش رفت خطے میں نظریاتی سیاست کی واپسی کا عندیہ بھی سمجھی جا سکتی ہے۔ غزہ کے حوالے سے مغرب کے دوہرے معیار پر تنقید آج ایک عالمی حقیقت بن چکی ہے۔ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی شہادت، پورے شہر کی تباہی اور اس کے باوجود عالمی ضمیر کی خاموشی نے انسانی حقوق کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کا یہ کہنا کہ مغربی جمہوریت اور انسانی حقوق کے دعوے غزہ میں دفن ہو چکے ہیں، دراصل اسی اجتماعی منافقت کی عکاسی ہے جس پر اب دنیا بھر میں سوال اٹھ رہے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام اپنی داخلی کمزوریوں کے باعث عالمی سطح پر تنقید کی زد میں ہے۔ بڑھتی ہوئی عدم مساوات، جنگیں، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور طاقت کی سیاست نے مغربی ماڈل کو ایک گہرے اخلاقی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ اگر موجودہ نظام ناکام ہو رہا ہے تو متبادل کیا ہے؟ حافظ نعیم الرحمن کے نزدیک اس خلا کو اسلام کا عادلانہ نظام ہی پْر کر سکتا ہے، جو محض ایک مذہبی نعرہ نہیں بلکہ عدل، مساوات اور انسانی وقار پر مبنی ایک جامع تصورِ حیات ہے۔ تاہم اس تصور کی عملی تعبیر، جدید ریاستی تقاضوں سے ہم آہنگی اور عوامی سطح پر قبولیت ہی اس کی اصل آزمائش ہوگی۔ بہرحال، مغربی جمہوریت پر بڑھتی ہوئی عالمی تنقید اس بات کا اشارہ ضرور ہے کہ دنیا ایک نئے فکری اور اخلاقی راستے کی تلاش میں ہے، اور یہی وہ بحث ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حافظ نعیم الرحمن کی گفتگو دراصل اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا محض انتخابی عمل کسی نظام کو عوام دوست بنا سکتا ہے؟ پاکستان جیسے ممالک میں بار بار کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ اگر معاشی انصاف، ادارہ جاتی شفافیت اور سماجی برابری موجود نہ ہو تو جمہوریت ایک محدود طبقے کے مفادات کا تحفظ کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی اکثریت آج بھی بنیادی حقوق، باعزت روزگار اور انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔ طلبہ سیاست کے حوالے سے ان کا مؤقف محض ایک جماعتی مطالبہ نہیں بلکہ قومی مفاد کا سوال ہے۔ دنیا کی بڑی سیاسی قیادتوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مضبوط اور نظریاتی قیادت اکثر تعلیمی اداروں ہی سے ابھری۔ طلبہ یونین پر طویل پابندی نے نہ صرف سیاسی عمل کو کمزور کیا بلکہ نوجوانوں کو غیر جمہوری قوتوں کے لیے آسان شکار بھی بنا دیا۔ اگر واقعی حکمران اشرافیہ جمہوری اقدار پر یقین رکھتی ہے تو اسے سب سے پہلے تعلیمی اداروں میں جمہوریت بحال کرنا ہوگی۔ بین الاقوامی تناظر میں مغرب کے دوہرے معیار اب محض اسلامی دنیا ہی نہیں بلکہ خود مغربی معاشروں میں بھی زیر ِ بحث آ رہے ہیں۔ فلسطین، وینزویلا اور دیگر خطوں میں انسانی حقوق کی کھلی پامالی کے باوجود عالمی اداروں کی خاموشی اس امر کی علامت ہے کہ طاقتور کے لیے قانون کچھ اور ہے اور کمزور کے لیے کچھ اور۔ یہی وہ تضاد ہے جو عالمی نظام پر عدم اعتماد کو جنم دے رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی ٹوٹ پھوٹ اور مغربی جمہوریت کی اخلاقی کمزوریوں نے دنیا کو ایک نظریاتی خلا سے دوچار کر دیا ہے۔ اس خلا کو محض معاشی اصلاحات سے نہیں بلکہ ایک ایسے ہمہ گیر اخلاقی و سماجی تصور سے ہی پْر کیا جا سکتا ہے جو انسان کو محض منڈی کی اکائی نہیں بلکہ باوقار ہستی تسلیم کرے۔ اسلامی نظامِ عدل اسی بنیاد پر خود کو ایک متبادل کے طور پر پیش کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن کا تعلیمی اداروں مغربی جمہوریت نہیں بلکہ کے لیے دیا ہے
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
ویب ڈیسک :آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات میں دو روز باقی رہ گئے ہیں، جس کے باعث سیاسی سرگرمیاں اور انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف آج میرپور کے قائداعظم سٹیڈیم میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے، جلسے میں میاں نواز شریف کے ہمراہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی دیگر مرکزی و مقامی قیادت بھی شریک ہوگی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
قائداعظم سٹیڈیم میں جلسے کے لیے تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، جہاں سٹیج کی تیاری سمیت دیگر انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، مسلم لیگ (ن) کے انتخابی جلسے میں کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد میں شرکت متوقع ہے، جبکہ جلسے کے لیے مختلف علاقوں سے قافلوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
واضح رہے کہ آزادکشمیر ڈویژن میں عام انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے، جس کے پیش نظر مختلف سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم تیز کیے ہوئے ہیں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ