Jasarat News:
2026-07-24@01:57:38 GMT

شعبان، شب ِ برات اور تقدیر

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260126-03-4
شعبان کا مہینہ آتے ہی ہمارے معاشرے میں ایک مخصوص مذہبی تصور گردش کرنے لگتا ہے کہ اس مہینے، خصوصاً پندرہویں رات کو قسمتوں کے فیصلے ہوتے ہیں، رزق تقسیم کیا جاتا ہے اور آئندہ سال مرنے والوں کے نام لکھ دیے جاتے ہیں۔ یہ بیانیہ اتنا عام ہو چکا ہے کہ کم ہی لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اس کی بنیاد قرآن و حدیث میں کہاں ہے۔

قرآن مجید اس معاملے میں بالکل واضح ہے۔ سورۂ الدخان میں ارشاد ہوتا ہے: ’’اس رات میں ہر حکمت والا معاملہ طے کیا جاتا ہے‘‘۔ مفسرین ِ امت، جن میں امام طبری، امام قرطبی اور امام ابن کثیر شامل ہیں، متفق ہیں کہ اس آیت میں جس رات کا ذکر ہے وہ لیلۃُ القدر ہے جو رمضان میں واقع ہوتی ہے، نہ کہ شعبان میں۔ لہٰذا شعبان میں تقدیر کے فیصلے ہونے کا تصور قرآنی نص کے خلاف ہے۔ البتہ نصف شعبان کی رات کے بارے میں ایک حدیث ضرور ملتی ہے جس میں مغفرتِ عامہ کا ذکر ہے۔ اس حدیث کے مطابق اللہ تعالیٰ اس رات اپنی مخلوق پر نظر فرماتا ہے اور سب کو معاف کر دیتا ہے، سوائے مشرک اور دل میں کینہ رکھنے والے کے۔ اگرچہ یہ حدیث ایک ایک سند سے ضعیف ہے، لیکن متعدد طرق سے مروی ہونے کی وجہ سے محدثین کی ایک بڑی جماعت نے اسے حسن لغیرہ قرار دیا ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس رات میں اللہ کی رحمت کا خصوصی پہلو موجود ہے۔ تاہم یہاں یہ فرق سمجھنا ضروری ہے کہ کسی رات کی فضیلت کا ثابت ہونا اور اس رات کو مخصوص عبادات، اجتماعی نمازوں، چراغاں یا آتش بازی کا دن بنا لینا۔ یہ دونوں ایک چیز نہیں ہیں۔ نبی کریمؐ، صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ سے نصف شعبان کے لیے کسی خاص عبادت کا ثبوت نہیں ملتا۔ اس لیے بعد میں رائج ہونے والی یہ سب صورتیں دینی حیثیت نہیں رکھتیں۔ جہاں تک اس روایت کا تعلق ہے جس میں نصف شعبان میں رزق، موت اور حیات کے فیصلوں کا ذکر ہے، محدثین نے اسے سختی سے رد کیا ہے۔ امام ابن کثیر نے اسے منکر، امام نووی نے باطل اور امام ابن الجوزی نے موضوع کے قریب قرار دیا ہے۔ یعنی اس تصور کی کوئی مستند بنیاد موجود نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ شعبان رمضان کی تمہید ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے دلوں کو کینہ، حسد اور نفرت سے پاک کریں، توبہ و استغفار کو معمول بنائیں اور رمضان کے استقبال کی عملی تیاری کریں۔ دین ہمیں جذبات نہیں بلکہ دلیل کے ساتھ عبادت کرنا سکھاتا ہے۔ عقیدہ جتنا مضبوط ہو، تحقیق اتنی ہی ضروری ہو جاتی ہے۔ شعبان کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہم روایت کے بجائے تحقیق کو اختیار کریں اور عبادت کو رسم نہیں شعور بنائیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے عبادت کو تحقیق سے نہیں بلکہ روایت سے اخذ کیا ہے۔ اگر نصف شعبان کی رات ہمیں کچھ سکھاتی ہے تو وہ یہ ہے کہ دلوں کو کینے سے پاک کیا جائے، توبہ کی جائے اور رمضان کے استقبال کی عملی تیاری کی جائے۔ یہی وہ روح ہے جو نبیؐ کے اسوہ سے ہم تک پہنچتی ہے۔ اگر ہم شعبان میں ہی تقدیر بدلنے کے دعوے کر کے مطمئن ہو جائیں تو رمضان کی اصل روح جو تربیت، نظم، صبر اور اجتماعی انقلاب کی روح ہے پس منظر میں چلی جاتی ہے۔دین کی خوبصورتی یہی ہے کہ وہ ہمیں سچائی کے ساتھ عبادت کرنا سکھاتا ہے، نہ کہ عقیدت کے نام پر ہر روایت قبول کر لینے کی اجازت دیتا ہے۔

افشاں نوید سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اس رات

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف