امام حسین (ع) اس عالم کیلئے چراغ ہدایت ہیں، بلوچستان کے علماء
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
اپنے مشترکہ بیان میں بلوچستان کے علماء نے کہا ہے کہ اکابر مدینہ مشکل مسائل میں ہمیشہ امام حسین علیہ السلام کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے علماء نے کہا ہے کہ امام حسین علیہ بے حد فیّاض، نہایت متقی، عبادت گزار اور کثرت سے نیک عمل کرنے والے تھے۔ سخاوت، مہمان نوازی، غرباء پروری، اخلاق و مروّت، حلم و تواضع اور صبر و تقویٰ آپ علیہ السلام کی خصوصیات حسنہ تھیں۔ ولادت امام حسین علیہ السلام کی مناسبت پر اپنے جاری بیان میں صوبائی خطیب مولانا انوارالحق حقانی، مولانا عبداللہ منیر، ڈاکٹر عطا الرحمان، مولانا قاری عبدالرحیم رحیمی اور مولانا عطاء الرحمان رحیمی نے کہا کہ اکابر مدینہ مشکل مسائل میں آپ علیہ السلام کی طرف رجوع کیا کرتے۔ سبط رسولؐ امام حسین علیہ السلام دینی علوم کے علاوہ عرب کے مروجہ علوم میں بھی دسترس رکھتے تھے۔
انکا کہنا تھا کہ امام حسین علیہ السلام کی علم و حکمت اور فصاحت و بلاغت کا اندازہ آپؑ کے خطبات سے لگایا جاسکتا ہے، جن میں سے کچھ آج بھی کتب سیرت میں موجود ہیں۔ بیان میں أصحاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حال میں باہر تشریف لائے کہ آپ (ص) ایک کندھے پر حضرت امام حسن علیہ السلام کو اور دوسرے کندھے پر حضرت امام حسین علیہ السلام کو اُٹھائے ہوئے تھے، پھر فرمایا "یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں" اور پھر فرمایا "اے اللہ! میں ان دونوں کو محبوب رکھتا ہوں، تو بھی ان کو محبوب رکھ اور جو ان سے محبّت کرتا ہے، ان کو بھی محبوب رکھ"۔
علماء نے کہا کہ سرکار دو عالم (ص) نے فرمایا "حسنؑ و حسینؑ نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔" بیان میں علماء نے کہا کہ ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "حسنؑ اور حسینؑ دنیا کے میرے دو پھول ہیں۔" رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "افضل جہاد ظالم سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے" اور سیّدنا امام حسین علیہ السلام نے دور ظلم و جور میں جس شان سے افضل جہاد کیا اور جرأت و شجاعت، عزم و استقلال، ایمان و عمل، ایثار و قربانی اور تسلیم و رضا کی جو بے مثال داستان رقم کی، تاریخِ انسانی اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امام حسین علیہ السلام علیہ السلام کی علماء نے کہا
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز