اپنے مشترکہ بیان میں بلوچستان کے علماء نے کہا ہے کہ اکابر مدینہ مشکل مسائل میں ہمیشہ امام حسین علیہ السلام کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے علماء نے کہا ہے کہ امام حسین علیہ بے حد فیّاض، نہایت متقی، عبادت گزار اور کثرت سے نیک عمل کرنے والے تھے۔ سخاوت، مہمان نوازی، غرباء پروری، اخلاق و مروّت، حلم و تواضع اور صبر و تقویٰ آپ علیہ السلام کی خصوصیات حسنہ تھیں۔ ولادت امام حسین علیہ السلام کی مناسبت پر اپنے جاری بیان میں صوبائی خطیب مولانا انوارالحق حقانی، مولانا عبداللہ منیر، ڈاکٹر عطا الرحمان، مولانا قاری عبدالرحیم رحیمی اور مولانا عطاء الرحمان رحیمی نے کہا کہ اکابر مدینہ مشکل مسائل میں آپ علیہ السلام کی طرف رجوع کیا کرتے۔ سبط رسولؐ امام حسین علیہ السلام دینی علوم کے علاوہ عرب کے مروجہ علوم میں بھی دسترس رکھتے تھے۔
 
انکا کہنا تھا کہ امام حسین علیہ السلام کی علم و حکمت اور فصاحت و بلاغت کا اندازہ آپؑ کے خطبات سے لگایا جاسکتا ہے، جن میں سے کچھ آج بھی کتب سیرت میں موجود ہیں۔ بیان میں أصحاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حال میں باہر تشریف لائے کہ آپ (ص) ایک کندھے پر حضرت امام حسن علیہ السلام کو اور دوسرے کندھے پر حضرت امام حسین علیہ السلام کو اُٹھائے ہوئے تھے، پھر فرمایا "یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں" اور پھر فرمایا "اے اللہ! میں ان دونوں کو محبوب رکھتا ہوں، تو بھی ان کو محبوب رکھ اور جو ان سے محبّت کرتا ہے، ان کو بھی محبوب رکھ"۔
 
علماء نے کہا کہ سرکار دو عالم (ص) نے فرمایا "حسنؑ و حسینؑ نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔" بیان میں علماء نے کہا کہ ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "حسنؑ اور حسینؑ دنیا کے میرے دو پھول ہیں۔" رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "افضل جہاد ظالم سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے" اور سیّدنا امام حسین علیہ السلام نے دور ظلم و جور میں جس شان سے افضل جہاد کیا اور جرأت و شجاعت، عزم و استقلال، ایمان و عمل، ایثار و قربانی اور تسلیم و رضا کی جو بے مثال داستان رقم کی، تاریخِ انسانی اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امام حسین علیہ السلام علیہ السلام کی علماء نے کہا

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان