Jasarat News:
2026-07-24@01:37:14 GMT

کراچی کا المیہ

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260126-03-6
کراچی، پاکستان کا معاشی دارالحکومت، ایک ایسا شہر ہے جو کبھی خوابوں کی نگری کہلاتا تھا۔ مگر آج یہ شہر تباہی، دہشت گردی، بدعنوانی اور سیاسی سازشوں کا شکار ہے۔ اس المیے کی جڑیں کراچی کی ان سیاسی جماعتوں میں پیوست ہیں جو کراچی کی دشمن بن چکی ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ جیسی جماعتیں، جو نہ صرف پیپلز پارٹی بلکہ مسلم لیگ (ن) کی بھی اتحادی ہیں، نے شہر کو مسلسل لوٹا ہے برباد کیا ہے اس کو حاصل سہولتوں کو ختم کیا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ مسلم لیگ (ن) کراچی کے لوگوں کا دل جیتنے کے بجائے ان پر ایم کیو ایم کے ان دہشت گردوں کو مسلط کرنے میں اپنا کردار ادا کیا وہ جو الطاف حسین کے حکم پر کراچی میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کرتے تھے ان کو پارسا اور پاک صاف بنا کر اہل کراچی پرمسلط کرنے کا سب سے بڑا سبب مسلم لیگ نون ہے، جو الیکشن ہارنے کے باوجود انہیں جتواتی اور حکومتی فوائد پہنچاتی ہے۔ اور بھول جاتی ہے کہ کراچی میں مختلف قومیتوں اور خود اردو بولنے والے کراچی کے شہریوں کے خون سے اس جماعت کے ہاتھ لت پت ہیں۔ زیادہ دور نہیں جائیے یاد کیجیے بلدیہ فیکٹری کو لگائی جانے والی آگ، سرکلر ریلوے کی زمینوں پر قبضے کے واقعات، صرف ایم کیو ایم ہی نہیں بلکہ اب سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی نے بھی کراچی سے نا معلوم گناہوں کا انتقام لینا شروع کیا ہے اس کی سب سے بڑی مثال ریڈ لائن پروجیکٹ کی سست رفتاری اور عدالتی کرپشن – یہ سب ثبوت ہیں کہ ایم کیو ایم، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) جیسی جماعتیں کراچی کی ترقی کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دیتی ہیں۔ یہ مضمون ان واقعات کی روشنی میں کراچی کے المیے کو بیان کرتا ہے، جہاں حادثات محض اتفاقی نہیں بلکہ منظم دہشت گردی اور بدعنوانی کا سلسلہ ہیں۔

2012 میں بلدیہ ٹاؤن کی علی انٹرپرائزز فیکٹری میں لگی آگ نے 260 سے زائد مزدوروں کو زندہ جلا دیا۔ یہ کوئی سادہ حادثہ نہ تھا بلکہ ایک منصوبہ بندی دہشت گردانہ فعل تھا۔ فیکٹری مالکان نے ایم کیو ایم کو 20 کروڑ روپے کا بھتا نہیں دیا تھا، جس کی سزا ان مزدوروں کو بھگتنی پڑی جن کا روزگار اس فیکٹری سے وابستہ تھا۔ ایم کیو ایم کے عہدیدار رحمان بھولا اور زبیر چریا کو موت کی سزا سنائی گئی، اور سندھ ہائی کورٹ نے 2023 میں اسے برقرار رکھا تھا۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم آج بھی پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی اتحادی ہے بجائے اس کے کہ ان واقعات کی بنا پر اسے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاتا، ان کے اوپر پابندی لگائی جاتی ان کو گلے لگایا گیا اور اقتدار میں حصہ دار بنایا گیا۔ یہ واقعہ کراچی کی آتش زدگیوں کا صرف ایک باب ہے۔ شہر میں ایسی آتش زدگی کے واقعات محض حادثات نہیں، بلکہ دہشت گردی کا سلسلہ ہیں۔ منگل کو قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کے لیڈر فاروق ستار نے گل پلازہ کی زندگی پر مگرمچھ کے آنسو بہائے اور سندھ حکومت کو لعن طعن کیا اور ان کو اس آتش زدگی کا ذمے دار ٹھیرایا حکومت یقینا ذمے دار ہوتی ہے، لیکن حادثات اور دہشت گردی میں فرق بھی واضح رہنا چاہیے ایم کیو ایم کی دہشت گردی میں تقریباً 300 کے قریب لوگ آتش زدگی کا شکار ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایم کیو ایم نے کئی لوگوں کو زندہ بھی جلایا ہے جس میں کراچی کے ایک وکیل رہنما بھی شامل ہیں۔ فاروق ستار حال ہی میں سندھی کلچر ڈے پر پی پی پی پر ’ریاست کے اندر ریاست‘‘ قائم کرنے کا الزام لگا رہے تھے، مگر خود اپنی جماعت کے ماضی کے جرائم بھول گئے۔ ایم کیو ایم لیڈرز کے بیانات اور پی پی پی کے جوابات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ سیاسی دشمنی شہریوں کی جانیں لوٹ رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ایم کیو ایم سے اتحاد نے اس سلسلے کومزید تقویت دی ہے، کیونکہ وفاقی حمایت نے ایم کیو ایم کو کراچی میں ناقابل ِ چیلنج بنا دیا۔ وہ اب بھی مختلف منصوبوں میں اپنا بھتا اور اپنا حصہ مانگتے ہیں۔

کراچی ملک کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہونے کے باوجود یہاں ترقیاتی کاموں کی رفتار سب سے سست ہے۔ ریڈ لائن بی آر ٹی پروجیکٹ 2022 میں شروع ہوا، مگر لاگت بڑھنے، یوٹیلیٹی شفٹنگ اور کنٹریکٹر تنازعات کے بہانوں کی وجہ سے 2026 تک بھی مکمل نہ ہو سکا۔ ملک بھر میں اس قسم کے پروجیکٹس چھے ماہ میں ختم ہو جاتے ہیں، مگر کراچی کو 15 سے 20 سال کا وقت دیا جاتا ہے۔ یہ دانستہ سست رفتاری ہے، جو سیاسی مفادات کے تحت ہوتی ہے، خاص طور پر مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کے گٹھ جوڑ اور سپورٹ کی وجہ سے جو وفاقی فنڈز پر کنٹرول رکھتی ہے۔ کراچی کے شہری مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ اسی طرح کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کا المیہ اور بھی گہرا ہے۔ 1992 میں ایم کیو ایم نے اسے بند کرانے کا فیصلہ کیا، لیکن سیاسی حکومت کی وجہ سے یہ منصوبہ بند نہ ہوا لیکن 1999 میں جنرل پرویز مشرف نے اسے بند کر دیا جو ایم کی ایم کے سب سے بڑے حامی تھے۔ سرکلر ریلوے کی بند ہوتے ہی ایم کیو ایم نے ریلوے کی زمینوں پر قبضہ شروع کیا، اور چائنا کٹنگ کے ذریعے ان زمینوں کو بیچ دیا گیا۔ فاروق ستار نے یہ بہانہ بنایا کہ ایم کیو ایم نے غریبوں کے لیے چائنا کٹنگ شروع کی، مگر لینڈ مافیا نے فائدہ اٹھایا مگر حقیقت یہی تھی کہ ایم کیو ایم اور لینڈ مافیا آپس میں ایک دوسرے کے ساتھی بن گئے تھے۔ مسلم لیگ (ن) نے ایم کیو ایم کی اس لوٹ مار کو وفاقی سطح پر نظر انداز کر کے کراچی کی ترقی کو روکا۔ قبضہ مافیا کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ آج بھی کے سی آر کی زمینیں لوٹی جارہی ہیں، اور کراچی کی ترقی رک گئی ہے۔ سیاسی جماعتیں، بالخصوص مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کا الائنس، ترقی کے بجائے

زمینوں کی لوٹ مار میں مصروف ہیں۔

سابق چیف جسٹس عدالت عظمیٰ گلزار احمد نے کے سی آر کی زمینوں سے میلوں دور نسلہ ٹاور کو منہدم کروایا۔ 2021 میں عدالت کے حکم پر 15 منزلہ عمارت گرا دی گئی، جس میں رہائشیوں کا اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ لوگوں کی جمع پونجی لٹ گئی، مگر متعلقہ لوگ غائب ہیں جن کو سزا ملنی چاہیے تھی لیکن سزا ان کو ملی جن کا کوئی جرم نہیں تھا۔ یہ عدالتی کارروائی کے سی آر سے متعلق تھی، مگر غلط عمارت نشانہ بنائی گئی۔ کرپشن اب ناسور بن چکی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو اس کرپشن پر نظر ڈالنی چاہیے۔ حکمرانوں کی اولادوں کی شادیوں میں شرکت کے بجائے غریب عوام کے مسائل حل کریں۔ کراچی کی سیاسی جماعتیں اور عدالتیں مل کر شہر کو تباہ کر رہی ہیں۔ کراچی کی حقیقی دشمن ایم کیو ایم، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) ہیں۔ فاروق ستار احتجاج کرتے ہیں مگر بلدیہ جیسے جرائم بھول جاتے ہیں۔ پی پی پی ترقیاتی فنڈز لوٹتی ہے، اور مسلم لیگ (ن) ایم کیو ایم کو وفاقی سپورٹ دے کر کراچی والوں پر مسلط کرتی ہے۔ کراچی سرکلر ریلوے کی زمینوں پر قبضے، آگ کی دہشت گردی، ریڈ لائن کی تعمیر میں تاخیر سب انہی جماعتوں کی کارستانیاں ہیں۔

کراچی کا المیہ ایم کیو ایم، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) تحریک انصاف جیسی سیاسی جماعتوں کی وجہ سے ہے۔ یہاں میں نے تحریک انصاف کا زیادہ ذکر نہیں کیا لیکن تحریک انصاف کی حکومت میں بھی ایم کی ایم حصے دار تھی اتحادی تھی تحریک انصاف بھی کراچی کو ایم کیو ایم کی ہی نظر سے دیکھتی تھی یہاں پر وہ دانستہ نہیں چاہتے کہ ان کا کوئی سیاسی وجود بنے ایم کیو ایم کی دہشت گردی، پی پی پی کی لوٹ مار اور مسلم لیگ (ن) کی ایم کیو ایم کو مسلط کرنے کی پالیسی نے شہر کو برباد کر دیا۔ اگر سیاسی جماعتیں نہیں سدھریں تو کراچی کا المیہ مزید گہرا ہوگا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جیسی قیادت کو کراچی کے مسائل بھی حل کرنے ہوں گے۔ کراچی کی بقا اسی میں ہے کہ اس کے دشمنوں، بالخصوص ایم کیو ایم، کو سزا دی جائے۔

وجیہ احمد صدیقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پی پی پی اور مسلم لیگ ایم کیو ایم کو ایم کیو ایم نے نے ایم کیو ایم کہ ایم کیو ایم ایم کیو ایم کے ایم کیو ایم کی تحریک انصاف سرکلر ریلوے فاروق ستار کی زمینوں کی وجہ سے کے سی ا ر ریلوے کی کا المیہ کے بجائے کراچی کے کراچی کی

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار