گل پلازہ کے بعد کی خاموشی: سوالات کا پہاڑ اور تحقیقاتی رپورٹوں کا قبرستان
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ایک بار پھر دھوئیں، ملبے اور سوالوں کے درمیان کھڑا ہے۔ گل پلازہ کا سانحہ محض ایک عمارت میں لگنے والی آگ نہیں رہا، بلکہ یہ شہر کے مجموعی حفاظتی نظام، انتظامی غفلت اور اجتماعی بے حسی کا عریاں مظاہرہ بن چکا ہے۔ چھٹے روز بھی جب کولنگ کا عمل جاری ہے، ریسکیو اینڈ سرچ آپریشن ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا، اور ملبے سے اب بھی انسانی باقیات برآمد ہو رہی ہیں، تو یہ حقیقت خود چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ یہ حادثہ معمولی نہیں، بلکہ کراچی کی تاریخ کے بڑے اور المناک سانحات میں شامل ہو چکا ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اب تک 62 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، 77 افراد لاپتا ہیں، 48 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل ہو چکا ہے اور صرف 15 افراد کی شناخت ممکن ہو سکی ہے، جن میں سے 8 کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے کی گئی۔ یہ اعداد محض نمبرز نہیں، بلکہ ٹوٹے ہوئے گھر، اجڑے ہوئے خاندان اور وہ انتظار ہیں جو شاید کبھی ختم نہ ہو۔ ملبے کے نیچے دبے ممکنہ افراد تک پہنچنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں عمارت کے فرنٹ سے راستے بنا رہی ہیں، خطرات کے باوجود قدم قدم پر آگے بڑھ رہی ہیں، مگر شدید ساختی نقصان، دھواں، زہریلی گیسیں اور منہدم ہونے کا خدشہ اس عمل کو نہایت سست اور جان لیوا بنا رہا ہے۔
یہ سانحہ اس وقت پیش آیا جب شہر شادیوں کے سیزن میں داخل تھا، عمارت میں غیر معمولی رش موجود تھا، اور تین منزلہ تجارتی مرکز میں بارہ سو سے زائد دکانیں قائم تھیں۔ قیمتی سامان، آتش گیر مواد، تنگ راستے، محدود یا بلاک ایگزٹس اور فائر سیفٹی نظام کی ناقص یا عدم دستیابی نے آگ کو پھیلنے کا بھرپور موقع دیا۔ سوال یہ نہیں کہ آگ لگی کیسے، سوال یہ ہے کہ آگ لگنے کے بعد اتنی بڑی تباہی کیوں ہوئی؟ سینٹرل فائر اسٹیشن گل پلازہ سے زیادہ دور نہیں، فائر بریگیڈ حکام کے مطابق گاڑیاں بروقت پہنچ گئیں، مگر اگر ایسا تھا تو پھر آگ پر قابو پانے میں 33 گھنٹے کیوں لگے؟ فوم، کیمیکل، پانی اور خصوصی آلات کہاں تھے؟ کیا شہر کے فائر فائٹنگ وسائل اس پیمانے کے حادثے کے لیے کبھی تیار ہی نہیں تھے؟ کراچی جیسے تین کروڑ سے زائد آبادی والے شہر میں صرف 28 سے 35 فائر اسٹیشن، 50 سے کم فعال فائر ٹینڈر، چند اسنارکل اور محدود ریسکیو یونٹس ہونا بذاتِ خود ایک المیہ ہے۔ اس پر مستزاد پانی کی فراہمی کا دائمی بحران، فائر ہائیڈرنٹس کی کمی، ٹریفک جام، ٹوٹی سڑکیں اور ناقص رسائی وہ عوامل ہیں جو ہر بڑے سانحے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھا دیتے ہیں۔ فائر فائٹنگ انفرا اسٹرکچر کی کمزوری محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں، بلکہ براہِ راست انسانی جانوں سے جڑا ہوا سوال ہے۔ گزشتہ برسوں کے اعداد وشمار اس المیے کو مزید واضح کرتے ہیں۔ سال 2024 میں شہر میں دو ہزار سے زائد جبکہ 2025 میں ڈھائی ہزار سے زیادہ آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں اکثریت کی وجہ الیکٹریکل شارٹ سرکٹ، ناقص برقی تنصیبات، غیر معیاری وائرنگ اور عمارتوں میں آتش گیر سامان کا بے ہنگم ذخیرہ تھی۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان وجوہات پر دہائیوں سے بات ہو رہی ہے، مگر عملی اقدامات آج تک نہ ہونے کے برابر ہیں۔
گل پلازہ کے سانحے نے ماضی کے وہ تمام زخم پھر سے ہرے کر دیے ہیں جو بلدیہ ٹاؤن فیکٹری، آر جے مال، کریم آباد، نیو کراچی اور کورنگی کے حادثات میں لگے تھے۔ 11 ستمبر 2012 کو علی انٹرپرائز فیکٹری میں 289 مزدور زندہ جل گئے تھے، تب بھی کہا گیا تھا کہ یہ ایک سبق ہے، تب بھی تحقیقات ہوئیں، رپورٹیں بنیں، وعدے کیے گئے، مگر نتیجہ کیا نکلا؟ آج ایک دہائی بعد بھی ایگزٹس بند، کھڑکیاں سیل، فائر الارم ناکارہ اور انسانی جانیں بے قیمت ہیں۔ یہی تاریخ اب گل پلازہ کے ساتھ دہرائی جا رہی ہے۔
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ہر سانحے کے بعد ہم اجتماعی طور پر وقتی غم میں مبتلا ہوتے ہیں، چند دن میڈیا پر شور ہوتا ہے، پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹیں فائلوں میں دفن ہو جاتی ہیں، ذمے داروں کا تعین نہیں ہو پاتا، اور نہ ہی کسی کو مثال بنائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہر کی 70 فی صد سے زائد عمارتیں آج بھی مناسب فائر سیفٹی نظام سے محروم ہیں۔ دنیا کے بڑے شہروں میں عمارتوں کا باقاعدہ سیفٹی آڈٹ ہوتا ہے، یہاں سرٹیفکیٹ کاغذی کارروائی سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ گل پلازہ نسبتاً بہتر ڈیزائن شدہ عمارت تھی، اس کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اگر نسبتاً بہتر عمارت کا یہ حال ہے تو باقی شہر کس خطرے میں ہے۔ یہ سانحہ کسی ایک پلازہ، کسی ایک محکمے یا کسی ایک دن کی ناکامی نہیں، بلکہ دہائیوں پر محیط بدانتظامی، کرپشن، غیر منصوبہ بند تعمیرات اور قانون سے چشم پوشی کا منطقی انجام ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ اس سانحے کے ذمے دار کون ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس بار واقعی کچھ بدلنا چاہتے ہیں؟ کیا یہ سانحہ بھی بلدیہ ٹاؤن کی طرح محض ایک حوالہ بن کر رہ جائے گا، یا ہم اسے مستقبل کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ بنائیں گے؟ اگر اس بار بھی فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل نہ ہوا، انفرا اسٹرکچر بہتر نہ کیا گیا، عمارتوں کا حقیقی آڈٹ نہ ہوا اور انسانی جان کو معاشی مفاد پر ترجیح نہ دی گئی، تو یہ آگ بجھنے کے باوجود شہر کے ضمیر کو جلاتی رہے گی۔ گل پلازہ کا ملبہ ایک دن ہٹا دیا جائے گا، دھواں چھٹ جائے گا، مگر اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوگا۔ یہ امتحان ریاست، اداروں اور معاشرے تینوں کا ہے۔ اگر ہم نے اس بار بھی آنکھیں بند رکھیں تو اگلا سانحہ صرف وقت کی بات ہے، اور شاید اس بار سوال پوچھنے والا بھی کوئی نہ بچے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گل پلازہ یہ ہے کہ سوال یہ کے بعد
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔