کراچی (کامرس رپورٹر) گورنر سندھ کامران ٹیسوری سانحہ گل پلازہ کے شہید آفتاب کے گھر تعزیت کے لیے پہنچ گئے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاست کرنا ہے تو ہم تیار ہیں لیکن پہلے 88 لاشوں کا جواب دیا جائے، کچھ بولتا ہوں تو ترجمانوں کا بیان آجاتا ہے، کہا جا رہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ پر بات نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقصد یہ ہے کہ مٹی ڈالو دوسرے سانحے کا انتظار کرو، 47 سال پہلے والی لیز نکال لی لیکن یہ نہیں پتہ چل رہا کہ آگ کیسے لگی۔ گورنر سندھ نے کہا کہ میں مقدمہ عوام میں لے کر آؤں گا، ٹیکس کے پیسوں سے پیسے دے رہے ہو، کون سا اپنی جیب سے دے رہے ہو، سانحہ گل پلازہ میں جو شہید ہوا اس کے بچوں کی تعلیم کی ذمے داری لیتا ہوں۔ جتنے لواحقین ہیں ان کے گھر جاؤں گا، میرے پاس سوٹ کیسز ہیں جن میں ثبوت ہیں، ڈیتھ سرٹیفکیٹ نہیں بن رہا، گھر کا چولہا نہیں جل رہا۔ انہوں نے کہا کہ آئیں اپنی جیب سے پیسے دینے کا اعلان کریں، میرے ملک کا حصہ لاہور ہے، وہاں انتظامیہ پرفارم کر رہی ہے، یہاں کچھ ہو ہی نہیں رہا، آپ مشورہ کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔ دریں اثناء ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے گورنر سندھ کامران ٹسوری کے بیان پر کہا کہ گورنر سندھ کہتے ہیں کہ گل پلازہ کے سانحے کی جگہ کام نہیں ہو رہا تھا، اس سے بڑا جھوٹ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ کا کام صرف ہیڈ لائنز میں آنا اور اپنی تشہیر کرنا ہے۔ وفاقی حکومت سے کیا امداد لی گئی، اس پر گورنر آج تک کچھ نہیں بتا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ گل پلازہ

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا