خفیہ آپریشن جاری رہتے ہیں، وادی تیراہ سے انخلا کو فوج سے جوڑنا درست نہیں، کے پی کے حکومت غلط بیانی نہ کرے: عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
اسلام آباد‘ کوٹ مومن (اپنے سٹاف رپورٹر سے +نوائے وقت رپورٹ) وزارت اطلاعات و نشریات نے وادی تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کرانے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کی تردید کر دی۔ ا علامیے کے مطابق حکومت نے وادی تیراہ کو خالی کرانے کی گمراہ کن خبروں کا نوٹس لیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وادی تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کروایا جا رہا ہے۔ وادی تیراہ خالی کروانے کے دعوے بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور مخصوص مقاصد کے تحت کیے جا رہے ہیں، ان دعوں کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، سکیورٹی اداروں کے خلاف غلط معلومات دینا اور ذاتی و سیاسی مفادات کا حصول ہے۔ وفاقی حکومت یا مسلح افواج کی جانب سے وادی تیراہ کو خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران پْرامن شہریوں کی زندگی کے متاثر نہ ہونے کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے، کارروائیوں کے لیے کسی قسم کی آبادی کی منتقلی یا ہجرت کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی ایسا کچھ کیا جا رہا ہے۔ مقامی آبادی خود علاقے میں خوارج کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور تیراہ میں امن و استحکام چاہتی ہے۔ خیبر پی کے حکومت کے ریلیف، بحالی اور آبادکاری کے محکمے نے 26 دسمبر 2025 کو ایک نوٹی فکیشن جاری کیا ہے، اس نوٹی فکیشن کے تحت 4 ارب روپے کی رقم جاری کی گئی، یہ رقم تیراہ (باغ) کے بعض علاقوں سے ممکنہ، عارضی اور رضاکارانہ طور پر آبادی کی نقل و حرکت کے پیشِ نظر مختص کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد پیشگی تیاری اور امدادی اقدامات کرنا ہے، جس میں ٹرانسپورٹ، خوراک کی فراہمی، نقد امداد، اور عارضی قیام و رجسٹریشن مراکز کا قیام اور انتظام شامل ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دستاویز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق یہ مجوزہ رضاکارانہ نقل مکانی مقامی آبادی کی رائے اور خواہشات کی عکاسی کرتی ہے جو ضلعی سطح پر منعقد ہونے والے نمائندہ جرگے کے ذریعے سامنے آئی ہے۔ موسمی حالات، انتظامی سہولیات اور دیگر مقامی عوامل کو مدنظر رکھا گیا ہے اور یہ عمل کیمپوں کے بغیر بھی انجام دیا جائے گا۔ خیبر پی کے حکومت یا اْس کے کسی عہدیدار کی جانب سے میڈیا کو دیا گیا کوئی بھی ایسا بیان، جس میں اِس نقل مکانی کو مسلح افواج سے جوڑا جائے، سراسر غلط، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ ایسے بیانات سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے دئیے جا رہے ہیں اور بدقسمتی سے سکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش ہیں، جو انتہائی افسوسناک ہے۔ ادھر وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ وادی تیرہ میں خفیہ آپریشنز جاری رہتے ہیں۔ خیبر پی کے حکومت غلط بیانی نہ کرے۔ کوٹ مومن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا حکومت نے وادی تیرہ سے متعلق جھوٹے پراپیگنڈے کا نوٹس لیا ہے، رضاکارانہ نقل مکانی کرے والوں کیلئے4 ارب روپے کے فنڈ رکھے گئیہیں۔ علاقے سے انخلاء کو فوج سے جوڑنا غلط بیانی ہے، علاقے میں خفیہ اطلاعات پر آپریشنز جاری رہتے ہیں، کے پی کے حکومت صوبے کے عوام کی بہتری پر توجہ دے۔ صوبائی حکومت فرانزک لیب بنائے، عوامی فلاح کے منصوبے شروع کرے، احتجاج کی کال سن سن کر لوگ تھک چکے ہیں۔ علاقے کو خالی کرانے سے متعلق غلط خبریں چلائی گئیں۔ احتجاج کی سیاست میں کچھ نہیں پڑا۔ عوامی خدمت پر توجہ مرکوز کریں۔ عوام اپنی دہلیز پر سہولتیں چاہتے ہیں۔ اگلے الیکشن میں فیصلہ عوامی خدمت پر ہونا ہے احتجاج پر نہیں۔عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے وادی تیراہ سے لوگوں کے انخلاء سے متعلق جھوٹے اور بے بنیاد پراپیگنڈے کا سختی سے نوٹس لیا ہے، علاقے کو خالی کرانے سے متعلق من گھڑت اور حقائق کے منافی خبریں چلائی گئیں، خیبر پی کے حکومت کی جانب سے چار ارب روپے کے فنڈز رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد کے لئے مختص کئے گئے، اس حوالے سے خیبر پی کے حکومت کے ریلیف و بحالی ڈیپارٹمنٹ کا باقاعدہ نوٹیفکیشن موجود ہے، وادی تیراہ سے نقل مکانی کو پاک فوج سے جوڑنا سراسر بے بنیاد اور غلط ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت نے وادی تیراہ سے لوگوں کے انخلاء سے متعلق پھیلائے گئے جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔ صوبائی حکومت کی طرف سے چار ارب روپے کے فنڈز رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد کے لئے مختص کئے گئے ہیں جس کا مقصد موسم کی شدت اور دیگر عوامل کے پیش نظر لوگوں کو سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ڈپٹی کمشنر خیبر نے بھی اس حوالے سے وضاحت جاری کی ہے کہ جرگہ ہوا اور جو لوگ موسم کی شدت کے پیش نظر رضاکارانہ طور پر جانا چاہتے تھے یہ رقم ان کے لئے رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا ایک واضح اور منظم طریقہ کار ہوتا ہے جس میں عوام کو کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ وادی تیراہ میں کوئی بڑا آپریشن نہیں ہونے جا رہا۔ لوگوں کی نقل مکانی کیوں ہو رہی ہے۔ صوبائی حکومت جواب دے۔ لوگ بے امنی اور دہشتگردوں کی موجودگی کی وجہ سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔ خیبر پی کے حکومت کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ دہشتگردوں کے ساتھ ہے یا پاکستان کے عوام کے ساتھ۔ وفاقی حکومت نے کوئی اپیل نہیں کی کہ لوگ وادی تیراہ سے نقل مکانی کریں۔ بورڈ آف پیس جیسے معاہدے کابینہ کی منظوری سے ہوتے ہیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے نجی ٹی وی سے انٹروٹو میں کہا ہے کہ تیراہ ویلی میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا۔ دہشتگردی کے حوالے سے پی ٹی آئی کے دانت کھانے کے اور ہیں دکھانے کے اور۔ سہیل آفریدی کی بانی سے ملاقات کا فیصلہ جیل حکام کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: رضاکارانہ طور پر خیبر پی کے حکومت وادی تیراہ کو حکومت نے وادی وادی تیراہ سے نے وادی تیراہ نقل مکانی کر خالی کرانے کہا ہے کہ بے بنیاد ارب روپے کو خالی کو فوج گیا ہے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔