NLFکراچی رہنمائوں کا سانحہ گل پلازہ پر اظہار افسوس
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے صدر خالد خان، سینئر نائب صدر امیرروان اور جنرل سیکرٹری محمد قاسم جمال نے سانحہ گل پلازہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے فائر بریگیڈ کے کارکن فرقان کی ریسکیو ڈیوٹی کے دوران شہادت پر افسوس کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فرقان کو سول ایوارڈ سے نوازا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فائر بریگیڈ کے کارکنان کو سیفٹی آلات سے آراستہ کرے اگر فائر بریگیڈ کے کارکنان کے پاس آکسیجن ماسک ،سلنڈر ودیگر سیفٹی آلات ہوتے تو اس طرح کی تباہ کاریاں نہیں ہوسکتی تھی ۔کراچی اربوں روپے کے وسائل مہیا کرتا ہے اور وسائل مہیا کرنے والی مارکیٹوں کی حفاظت کے لیے کوئی انتظام نہیں ہے ۔دنیا ترقی میں کتنی آگے پہنچ چکی ہے اور اس طرح کے حادثات پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو آپریشن کیا جاتا ہے اور آگ بجھانے والے کیمیکل کا چھڑکائو کے ساتھ پھنسے ہوئے لوگوں بھی ریسکیو کیا جاتا ہے لیکن 17سال سے سندھ میں اقتدار پر مسلط پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی کارکردگی قوم کے سامنے آچکی ہے ۔بلدیہ کراچی میں جعلی طریقے سے آنے والے مسلط اور قبضہ میئر کو ٹک ٹاک سے فرصت نہیں ہے ۔سندھ حکومت اور میئر کراچی میں معمولی شرم اور غیرت ہوتو وہ فوری طور پر مستعفی ہوجائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔