پاکستان علماء کونسل کا افغان حکومت کے احکامات پر اظہار تشویش
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
پاکستان علماء کونسل نے افغان حکومت کے احکامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شریعت اسلامیہ کے نام پر معاشرے کو غلام اور آزاد میں تقسیم کرنا قابل تشویش ہے۔
پاکستان علماء کونسل کے اعلامیہ کے مطابق افغان حکومت کے احکامات قرآن و سنت کے احکامات کے مطابق نہیں، یہ تقسیم کسی بھی صورت قرآن وسنت کے احکامات کے مطابق نہیں۔
کراچی مبصرین ڈاکٹر قمر چیمہ اور بریگیڈیئر مسعود.
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ تقسیم ہندوانہ تعلیمات کے مشابہ ہے، افغان طالبان حکومت خود کو شرعی اسلامی حکومت قرار دیتی ہے، اسے ان امور پر اپنا مؤقف فوری طور پر دنیا کے سامنے لانا چاہیے۔
اعلامیے کے مطابق عہد جاہلیت کے قوانین اور رسومات کو دوبارہ اسلام کے نام پر نافذ نہیں کرنا چاہیے۔
پاکستان علماء کونسل کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ جو انداز اختیار کیا گیا ہے، اس سے انسانیت کی توہین اور تذلیل سامنے آتی ہے، اس طرح کے احکامات کو شرعی نہیں بلکہ جدید جاہلیت کا دور ہی کہا جاسکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پاکستان علماء کونسل کے احکامات کے مطابق
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔