نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں، خیبر پی کے جہاد میں فوج لڑ رہی ہے، صوبائی حکومت خاموش تماشائی: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
لاہور‘ سیالکوٹ (کامرس رپورٹر + نوائے وقت رپورٹ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے کہا ہے کہ ناکامی کے باعث 18 ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا تو لوگوں کو برا لگا جب تک اختیارات کو نچلی سطح تک نہیں لیکر جائیں گے ملک نہیں چلے گا۔ 18 ویں ترمیم کا اہم جزو بلدیاتی انتخابات کا انعقاد تھا۔ بلدیاتی نظام مؤثر طریقے سے لاگو کرنے میں ہم لوگ ناکام رہے۔ اس وجہ سے میں نے 18 ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا تھا لوکل گورنمنٹ سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں سمجھ یہ نہیں آتا میری سیاسی برادری لوکل گورنمنٹ سے اتنی خائف کیوں ہے؟ 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو اختیارات دیئے گئے۔ صوبوں نے اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کئے۔ پاکستان کے تینوں بڑے ڈکٹیٹرز نے بلدیاتی انتخابات کرائے اور لوکل گورنمنٹ کو اختیارات دیئے۔ بلدیاتی اداروں سے سب سے بڑا خطرہ بیورو کریسی کو ہوتا ہے۔ میں اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوں گے اس سے ٹیکس زیادہ اکٹھا ہو گا۔ خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں تقریب سے خطاب میں کہا ہے کہ خیبر پی کے کے جہاد میں پاک فوج لڑ رہی ہے جہاد میں خیبر پی کے حکومت کا کوئی کردار نہیں وہ جنگ میں تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے حکومت کی کامیابیوں میں پاک فوج کا بہت بڑا کردار ہے۔ ہماری افواج نے بہادری کے ساتھ بھارت کے خلاف جنگ لڑی اور اپنے سے 5 گنا طاقتور دشمن کو شکست دی۔ ایسی شکست دی کہ صدر ٹرمپ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ 8بھارتی جہاز گرائے گئے معرکہ حق ہماری افواج اور حق کا معرکہ تھا اﷲ تعالیٰ کے فضل اور شہداء کے لہو سے ملک کی عزت میں اضافہ ہوا۔ دہشت گردی کے خلاف جو جنگ لڑ رہے ہیں اس کی مثال دنیا بھر میں نہیں ملتی۔ شہداء کی قربانیوں کے باعث آج وطن میں امن ہے آٹھ مہینے پہلے ہمارا پاسپورٹ 140 ویں نمبر پر تھا اب 98 پر آ گیا ہے۔ علاوہ ازیں وزیر منصوبہ بندی نے الحمرا ہال میں تھنک فیسٹ سے خطاب میں کہا ہے کہ جغرافیائی کی طرح ڈیجیٹل اور سائبر سرحدوں کا تحفظ بھی قومی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے۔ قومی دفاع کا تعلق براہ راست ڈیجیٹل سکیورٹی سے جڑ گیا ہے۔ دریں اثناء چئیرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا ہے کہ اس سال ٹیکس ریٹرن میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔ گزشتہ سال 4.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ویں ترمیم کہا ہے کہ ٹیکس ریٹ
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔