ڈسکہ: کار اینٹوں سے بھری ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکراگئی،5افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260126-08-22
ڈسکہ (صباح نیوز) سیالکوٹ روڈپر سٹی ہاؤسنگ کے قریب تیز رفتار کار بے قابو ہوکر سڑک کے سائیڈ پر سروس روڈ پر کھڑی اینٹوں سے بھری ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکراگئی، 2 بچوں سمیت 5افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا، لاشوں اور زخمی کو سول اسپتال منتقل کردیاگیا۔ وزیراعلی پنجاب مریم نوازنے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور سوگوار خاندان سے اظہارہمدردی وتعزیت کی ہے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق جاںبحق افراد میں 2 بہن بھائی 3سالہ عزا اور 6 سالہ زمان ولد سہیل کے علاوہ 36سالہ سلمان 58سالہ اسلام اور 29سالہ عمران شامل ہیں۔ جبکہ زخمی شخص 33 سالہ سہیل ساکن فتج گڑھ شامل ہے۔ لواحقین کے مطابق گاڑی میں ایک فیملی کے افراد اور 2 دوست سوار تھے اور سالگرہ کی تقریب سے واپس آ رہے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک