Jasarat News:
2026-07-24@03:26:38 GMT

سندھ کی زراعت کو قصداً تباہ کیا جارہا ہے،محمد یوسف

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

میرپورخاص(نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکریٹری و ٹاؤن ناظم محمد یوسف نے کہا ہے کہ ملک میں چند خاندان حکمرانی کر کے ملکی وسائل پر قابض ہیں عدالتی نظام اور آئین کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر کے اداروں کی بے توقیری کی جا رہی ہے انتخابات میں ایم کیو ایم اور من پسند افراد کو منتخب کر کے انتخابات کو ڈھکوسلہ بنا دیا گیا ہے سندھ میں حکومتی سرپرستی میں ڈاکو راج اور بھتہ خوری عروج پر ہے .

سندھ میں 2900 حملے پولیس پر ہوئے ایک ایس ایچ او قتل کر دیا گیا ڈاکوؤں کے پاس جدید اسلحہ موجود ہے یہ کیسا امن و امان ہے گل سینٹر کے واقعے کے اصل ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے بجائے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لیے کبھی سندھ کو تقسیم کرنے اور کبھی کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے شوشے چھوڑے جا رہے ہیں وہ آج یہاں پریس کلب میرپورخاص میں بدل دو نظام تحریک کے سلسلے پریس کانفرنس میں اظہار خیال کر رہے تھے .اس موقع پر ضلعی جنرل سیکریٹری ارسلان جٹ مقامی امیر شکیل احمد فہیم,مفتی تحسین احمدبھٹو، عرفان الحق قریشی و دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں 17 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے میئر کراچی کے پاس 55 ارب روپے کا بجٹ ہے اس کے باوجود کراچی میں 250 افراد ڈمپر کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گئے 27 بچے کھلے ہوئے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوئے ۔ گل سینٹر میں 45 منٹ بعد فائر بریگیڈ کی گاڑی بغیر پانی کے پہنچی حکمرانوں نے شرمندگی اور ندامت کے بجائے بلیم گیم شروع کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ سندھ زرعی صوبہ ہے اور 70 فیصد افراد زراعت سے وابستہ ہیں ناقص پالیسیوں کے ذریعے زراعت کو تباہ کر کے کسانوں کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے گندم کا سرکاری ریٹ 1800 روپے من ہے جبکہ گندم 6 ہزار روپے من فروخت ہو رہی ہے اسی طرح چار ہزار اسکولوں کو خود حکومت نے جعلی قرار دیا ہے 78 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ اسکولوں میں فرنیچر اور دیگر سہولیات ناپید ہیں نقل کے رجحان کو فروغ دیا جا رہا ہے ملک بھر سے ڈگریاں لینے کے خواہشمند سندھ میں آ کر باآسانی نقل کر کے ڈگریاں حاصل کرتے ہیں واحد صوبہ سندھ ہے جہاں جمہوریت کی نرسری بلدیاتی نظام قائم ہے اسے بھی تباہ کیا جا رہا ہے نہ اختیار ہے نہ وسائل ہیں عوام موبائل فون بجلی بل بیلنس اور ماچس تک پر ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن سہولیات ناپید ہیں انہوں نے کہا کہ شہر میں سڑکیں تباہ حال ہیں پینے کا پانی تک میسر نہیں سول ہسپتال میں مریضوں کے لیے سہولیات نہیں سول ہسپتال کو شہر سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے نوجوان نسل کو تباہ کرنے کے لیے شراب خانہ کھولنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ہم عوام سے براہ راست رابطے میں ہیں اور عوامی طاقت کے ذریعے نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کا اغاز کر دیا گیا ہے۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دیا گیا کر دیا

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی