جماعت اسلامی کے صوبائی امیر کا وزارت اطلاعات کے بیان پر ردعمل میں کہنا تھا کہ جبری انخلا اور آپریشن میں سے کوئی بھی اقدام نہ تو رضاکارانہ تھا اور نہ ہی کبھی فوج کے علاوہ کسی اور ادارے کے حکم پر عمل میں آیا۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا جنوبی پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور سے لے کر آج تک ملک میں ہونے والے تمام فوجی آپریشنز اور عوام کے جبری انخلا کی کارروائیاں براہِ راست فوجی احکامات پر ہوتی رہی ہیں۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جبری انخلا اور آپریشن میں سے کوئی بھی اقدام نہ تو رضاکارانہ تھا اور نہ ہی کبھی فوج کے علاوہ کسی اور ادارے کے حکم پر عمل میں آیا۔ اپنے دفتر سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے بعد آنے والی سیاسی حکومتیں ہی فوج کے احکامات کو سرکاری نوٹیفکیشن اور فیصلوں کی صورت میں جاری کرتی رہیں، جس سے یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ تمام فیصلے سول حکومت کر رہی ہے، حالانکہ اصل اختیار کہیں اور موجود تھا۔ گویا سب کچھ فوج نے کیا لیکن چہرہ سیاسی حکومت کا لتاڑا گیا، جس کے نتیجے میں عوام میں سیاسی نظام اور اداروں دونوں کے خلاف بداعتمادی میں اضافہ ہوا۔

پروفیسر محمد ابراہیم خان کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشنز اور جبری انخلا نے متاثرہ علاقوں کے عوام کو شدید معاشی، سماجی اور نفسیاتی نقصان پہنچایا ہے۔ ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے، ان کے روزگار تباہ ہوئے اور ان کے بنیادی انسانی حقوق بری طرح متاثر ہوئے، مگر ان فیصلوں میں عوام کی رائے کو کبھی اہمیت نہیں دی گئی۔ اگر فوج واقعی مزید بدنامی سے خود کو بچانا چاہتی ہے تو اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اندرونی سیکیورٹی کے معاملات سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائے اور یہ ذمہ داری آئین کے مطابق سول اداروں کے حوالے کرے۔ داخلی سلامتی کا قیام منتخب حکومت اور سول اداروں کی ذمہ داری ہے، جبکہ فوج کا بنیادی فریضہ ملکی سرحدوں کا دفاع ہونا چاہیے۔پروفیسر محمد ابراہیم خان نے مطالبہ کیا کہ اندرونی سلامتی کے حوالے سے تمام فیصلے پارلیمنٹ اور منتخب نمائندوں کے ذریعے کیے جائیں، تاکہ شفافیت قائم ہو، عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک حقیقی معنوں میں ایک آئینی و جمہوری ریاست کے طور پر آگے بڑھ سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جبری انخلا

پڑھیں:

پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش