data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260126-01-21
بنوں (صباح نیوز) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا جنوبی پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور سے لے کر آج تک ملک میں ہونے والے تمام فوجی آپریشنز اور عوام کے جبری انخلا کی کارروائیاں براہِ راست فوجی احکامات پر ہوتی رہی ہیں۔وزارتِ اطلاعات و نشریات کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جبری انخلا اور آپریشن میں سے کوئی بھی اقدام نہ تو رضاکارانہ تھا اور نہ ہی کبھی فوج کے علاوہ کسی اور ادارے کے حکم پر عمل میں آیا۔ اپنے دفتر سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے بعد آنے والی سیاسی حکومتیں ہی فوج کے احکامات کو سرکاری نوٹیفکیشن اور فیصلوں کی صورت میں جاری کرتی رہیں، جس سے یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ تمام فیصلے سول حکومت کر رہی ہے، حالانکہ اصل اختیار کہیں اور موجود تھا۔گویا سب کچھ فوج نے کیا لیکن چہرہ سیاسی حکومت کا لتاڑا گیا، جس کے نتیجے میں عوام میں سیاسی نظام اور اداروں دونوں کے خلاف بداعتمادی میں اضافہ ہوا۔پروفیسر محمد ابراہیم خان کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشنز اور جبری انخلا نے متاثرہ علاقوں کے عوام کو شدید معاشی، سماجی اور نفسیاتی نقصان پہنچایا ہے۔ ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے، ان کے روزگار تباہ ہوئے اور ان کے بنیادی انسانی حقوق بری طرح متاثر ہوئے، مگر ان فیصلوں میں عوام کی رائے کو کبھی اہمیت نہیں دی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر فوج واقعی مزید بدنامی سے خود کو بچانا چاہتی ہے تو اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اندرونی سیکیورٹی کے معاملات سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائے اور یہ ذمہ داری آئین کے مطابق سول اداروں کے حوالے کرے۔ داخلی سلامتی کا قیام منتخب حکومت اور سول اداروں کی ذمہ داری ہے، جبکہ فوج کا بنیادی فریضہ ملکی سرحدوں کا دفاع ہونا چاہیے۔پروفیسر محمد ابراہیم خان نے مطالبہ کیا کہ اندرونی سلامتی کے حوالے سے تمام فیصلے پارلیمنٹ اور منتخب نمائندوں کے ذریعے کیے جائیں، تاکہ شفافیت قائم ہو، عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک حقیقی معنوں میں ایک آئینی و جمہوری ریاست کے طور پر آگے بڑھ سکے۔

خبر ایجنسی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جبری انخلا فوجی ا

پڑھیں:

پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ

افشاں رضوان:پٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد شہریوں نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری ریلیف دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

 شہریوں کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے, آمدن میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جبکہ روزمرہ اخراجات دوگنا ہو چکے ہیں۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی کرتے ہوئے فوری ریلیف فراہم کیا جائے.

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

متعلقہ مضامین

  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم