فوجی آپریشنز اور جبری انخلا براہ راست فوجی احکامات پر ہوئے،پروفیسر ابراہیم
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260126-01-21
بنوں (صباح نیوز) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا جنوبی پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور سے لے کر آج تک ملک میں ہونے والے تمام فوجی آپریشنز اور عوام کے جبری انخلا کی کارروائیاں براہِ راست فوجی احکامات پر ہوتی رہی ہیں۔وزارتِ اطلاعات و نشریات کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جبری انخلا اور آپریشن میں سے کوئی بھی اقدام نہ تو رضاکارانہ تھا اور نہ ہی کبھی فوج کے علاوہ کسی اور ادارے کے حکم پر عمل میں آیا۔ اپنے دفتر سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے بعد آنے والی سیاسی حکومتیں ہی فوج کے احکامات کو سرکاری نوٹیفکیشن اور فیصلوں کی صورت میں جاری کرتی رہیں، جس سے یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ تمام فیصلے سول حکومت کر رہی ہے، حالانکہ اصل اختیار کہیں اور موجود تھا۔گویا سب کچھ فوج نے کیا لیکن چہرہ سیاسی حکومت کا لتاڑا گیا، جس کے نتیجے میں عوام میں سیاسی نظام اور اداروں دونوں کے خلاف بداعتمادی میں اضافہ ہوا۔پروفیسر محمد ابراہیم خان کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشنز اور جبری انخلا نے متاثرہ علاقوں کے عوام کو شدید معاشی، سماجی اور نفسیاتی نقصان پہنچایا ہے۔ ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے، ان کے روزگار تباہ ہوئے اور ان کے بنیادی انسانی حقوق بری طرح متاثر ہوئے، مگر ان فیصلوں میں عوام کی رائے کو کبھی اہمیت نہیں دی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر فوج واقعی مزید بدنامی سے خود کو بچانا چاہتی ہے تو اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اندرونی سیکیورٹی کے معاملات سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائے اور یہ ذمہ داری آئین کے مطابق سول اداروں کے حوالے کرے۔ داخلی سلامتی کا قیام منتخب حکومت اور سول اداروں کی ذمہ داری ہے، جبکہ فوج کا بنیادی فریضہ ملکی سرحدوں کا دفاع ہونا چاہیے۔پروفیسر محمد ابراہیم خان نے مطالبہ کیا کہ اندرونی سلامتی کے حوالے سے تمام فیصلے پارلیمنٹ اور منتخب نمائندوں کے ذریعے کیے جائیں، تاکہ شفافیت قائم ہو، عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک حقیقی معنوں میں ایک آئینی و جمہوری ریاست کے طور پر آگے بڑھ سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جبری انخلا فوجی ا
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔