پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ ساز تیزی؛ انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
کراچی:
پاکستان اسٹاک ایکسچینج آج ریکارڈ ساز تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
بازار حصص میں کاروباری ہفتے کا آغاز آج 1288 پوائنٹس کی شان دار تیزی کے ساتھ ہوا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 90 ہزار 455 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
مزید پڑھیںپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ تیزی؛ انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں دو دہائیوں کی تاریخ ساز ترقی، سرمایہ کاری کیلیے روشن مستقبل کی نوید
بعد ازاں مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور اعتماد کے نتیجے میں 1355 پوائنٹس کی مجموعی تیزی کے ساتھ پی ایس ایکس کا کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 90 ہزار 522 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھو چکا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی اسٹاک ایکسچینج میں جزوی مندی کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر تیزی کا رجحان رہا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسٹاک ایکسچینج پاکستان اسٹاک پوائنٹس کی
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔