سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کی جائے‘شمس سواتی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کی جائے ‘ حکومت فائر بریگیڈ کے کارکنان کو سیفٹی آلات سے آراستہ کرے اگر فائر بریگیڈ کے کارکنان کے پاس آکسیجن ماسک،سلنڈر ودیگر سیفٹی آلات ہوتے تو اس طرح کی تباہ کاریاں نہیں ہوسکتی تھی ۔کراچی اربوں روپئے کے وسائل مہیا کرتا ہے اور وسائل مہیا کرنے والی مارکیٹوں کی حفاظت کیلئے کوئی انتظام نہیں ہے ۔دنیا ترقی میں کتنی آگے پہنچ چکی ہے اور اس طرح کے حادثات پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو آپریشن کیا جاتا ہے اور آگ بجھانے والے کیمکل کا چھڑکائو کے ساتھ پھنسے ہوئے لوگوں بھی ریسکیو کیا جاسکتا تھا۔ 17سال سے سندھ میں اقتدار پر مسلط پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی کارکردگی قوم کے سامنے آچکی ہے۔ حکومت دکانداروں اور ہلاک شدگان کے لواحقین کو فی کس پانچ پانچ کروڑ کی امداد کرے۔ یہ بات نیشنل لیبر فیڈیشن پاکستان کے صدر شمس الرحمان سواتی نے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ کے دورے کے موقع پر دکانداروں اور متاثرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر این ایل ایف بلوچستان کے جنرل سیکرٹری عمر حیات، کوئٹہ زون کے صدر اوراین ایل ایف کراچی کے جنرل سیکرٹری قاسم جمال بھی موجود تھے۔ شمس الرحمان سواتی نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ پر پوری قوم افسردہ اور غم میں ہے ۔گل پلازہ نہیں جلا لوگوں کا دل جل گئے ہیں۔ غم کی اس گھڑی میں پوری قوم متاثرین کے ساتھ ہے۔ 68سے زائد افراد کی اموات ایک بڑا سانحہ ہے۔ سندھ حکومت کراچی جیسے میگا سٹی شہر میں مارکیٹوں اور شاپنگ مال کی حفاظت کے لیے سیفٹی قوانیں پر سختی کے ساتھ نفاذ کرے اور صنعتی علاقوں میں موجود فیکٹریوں اور کارخانوں میں بھی سیفٹی قوانیں کا نفاذ کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گل پلازہ
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔