ریاض-ابوظہبی اختلافات اور خطے پر اسکے اثرات
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: متحدہ عرب امارات طویل عرصے سے سوڈانی فوج کے خلاف "ریپڈ سپورٹ فورس" کی حمایت کر رہا ہے، لیکن ابوظہبی اس کی تردید کرتا ہے۔ صومالیہ نے بھی رواں ماہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ تمام معاہدے منسوخ کر دیئے تھے۔ اس اقدام کی وجہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے "صومالی لینڈ" کے الگ ہونے والے علاقے کی حمایت ہے، جسے اسرائیل نے گذشتہ ماہ تسلیم کیا تھا۔ ریاض ابوظہبی کشیدگی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، کچھ کہا نہیں جاسکتا، لیکن پاکستان جیسے ممالک کے لئے یہ ایک بڑا امتحان ہے، پاکستان کے دونوں سے گہرے اقتصادی مفادات وابستہ ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان ثالث بنتا ہے یا فریق۔ تحریر: محمد رضا احمدی
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کے بائیکاٹ کی مہم تیز کر دی ہے۔ سعودی میڈیا حال ہی میں کھلے عام یو اے ای پر مخالفانہ لہجے میں "خیانت" کا الزام لگا رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا خطہ ایک نئے بحران کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔ 2017ء میں قطر کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے بعد سے خلیج فارس کے علاقے میں متحدہ عرب امارات کے خلاف سعودی میڈیا کی رپورٹیں تنقیدی نقطہ نظر کی حامل رہی ہیں۔ اس کشیدگی میں یمن میں ہونے والی حالیہ جھڑپوں کے بعد شدت آئی ہے۔ یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دو مختلف گروہوں کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ اختلافات اس وقت شدت اختیار کر گئے، جب سعودی عرب نے ابوظہبی کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے خلاف سعودی نواز حکومت کی حمایت میں مداخلت کی۔
متحدہ عرب امارات کے خلاف سعودی میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کے مسلسل حملوں کی وجہ سے فریقین کے درمیان اختلافات بہت زیادہ وسیع ہوگئے ہیں۔ ان حملوں میں متحدہ عرب امارات پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، غداری اور کشیدگی کو ہوا دینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ سرکاری طور پر چلنے والے الاخباریہ نیوز نیٹ ورک نے اس ہفتے ایک رپورٹ میں کہا کہ متحدہ عرب امارات لیبیا سے یمن اور ہارن آف افریقہ تک "انتشار پھیلانے اور علیحدگی پسندوں کی حمایت" کر رہا ہے۔ عام طور پر خلیجی عرب ریاستیں امن و استحکام کا ڈرامہ کرتی ہیں، لیکن اس بار ابوظہبی اور ریاض کے درمیان اختلافات اتنے شدید ہوگئے ہیں کہ اب وہ انہیں چھپا نہیں سکتے اور اس مرتبہ تو سعودی عرب اور یو اے ای کے اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
خلیجی سلامتی کی ایک تجزیہ کار اینا جیکبز نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو برسوں سے شدید تناؤ کا سامنا ہے، لیکن اب یہ اختلافات غیر معمولی طور پر منظر عام پر آچکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہونے والی زبانی جھڑپیں گذشتہ خلیجی بحران کی یاد دلا رہی ہیں۔ ریاض اب کھل کر ابوظہبی کی علاقائی پالیسیوں پر تنقید اور اپنے اختلافات پر زور دے رہا ہے اور بظاہر پیچھے ہٹنے کے کوئی آثار نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کے برعکس، متحدہ عرب امارات بڑی حد تک خاموش ہے۔ یہ اختلافات اس حقیقت کے باوجود سامنے آئے ہیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارت کا حجم کافی زیادہ ہے۔ سعودی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق 2024ء میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم تقریباً 36 بلین ڈالر تک پہنچ گیا۔ متحدہ عرب امارات کو سعودی برآمدات کا تخمینہ 23.
سعودی تجزیہ کار متحدہ عرب امارات پر یمن اور سوڈان سمیت متعدد محاذوں پر سعودی مفادات سے متصادم قوتوں کی حمایت کا الزام لگاتے ہیں۔ یہ اس وقت ہے، جب ابوظہبی نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کیا ہے اور 2020ء میں "ابراہیم معاہدہ" کے عنوان سے اس حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لایا ہے۔ سعودی عرب متحدہ عرب امارات کو غدار سمجھتا ہے۔ سعودی سیاسی تجزیہ کار سلیمان العقیلی نے اے ایف پی کو بتایا کہ "سعودی عرب میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ریاض کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو دھوکہ دیا ہے اور وہ سعودی عرب کی اسٹریٹجک گہرائی میں بحران پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے ریاض اور ابوظہبی کی متضاد خارجہ پالیسی کی حکمت عملی کو کشیدگی کا بنیادی نکتہ قرار دیا۔
سعودی مصنف منیف الحربی نے بھی متحدہ عرب امارات کی پالیسیوں کو ایک اسرائیلی منصوبہ قرار دیا، جسے متحدہ عرب امارات نے الاخباریہ نیٹ ورک پر لاگو کرنے کے لیے شروع کیا ہے۔ ایمریٹس یونیورسٹی کے پروفیسر اور ابوظہبی کے ولی عہد محمد بن زاید النہیان کے سابق مشیر عبدالخالق عبداللہ نے سعودی تجزیہ کاروں کے بیانات کے جواب میں کہا ہے کہ ہماری کامیابیوں کی بدولت ہم ایک ماڈل اور علاقائی طاقت بن گئے ہیں۔ کیا یہ ہماری غلطی ہے۔؟ متحدہ عرب امارات اختلافات نہیں بھڑکانا چاہتا ہے۔ ہم سعودی عرب سے اور کیا چاہتے تھے۔؟" سعودی تجزیہ کار العقیلی نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا امکان نہیں ہے، اس بات پر زور دیا کہ "ریاض متحدہ عرب امارات کے خلاف تکلیف دہ اقتصادی اقدامات اٹھا سکتا ہے۔
ادھر سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات میں سیاحت کا بائیکاٹ شروع کر دیا ہے۔ مشہور سعودی بلاگرز نے متحدہ عرب امارات کی سیاحت کے بائیکاٹ کی مہم شروع کی ہے، جس کا بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا گیا ہے۔ "متحدہ عرب امارات کا سفر بعض اوقات ان پالیسیوں کے لیے بالواسطہ ووٹ دینے جیسا ہوتا ہے، جن کی ہم حمایت نہیں کرنا چاہتے۔ "دلار السعودی" نامی صارف نے جس کے X نیٹ ورک پر 32,000 فالورز ہیں، لکھا ہے: کاروباری دنیا میں سعودی عرب کے مشہور لگژری پرفیوم برانڈ دیکھون الاماراتیہ نے اعلان کیا کہ اس نے ایک نیا نام منتخب کیا ہے اور کئی متبادل نام تجویز کیے ہیں، جن میں متحدہ عرب امارات شامل نہیں ہے۔ میڈیا کی کشیدگی کے درمیان نئے سیاسی اور سکیورٹی اتحاد بھی بن رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے صدر نے رواں ہفتے نئی دہلی میں ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور دونوں ممالک نے اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری پر اتفاق کیا۔ یہ اقدام ریاض کی جانب سے بھارت کے جوہری حریف پاکستان کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کرنے کے چند ماہ بعد سامنے آیا ہے۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی کہا کہ ان کا ملک سعودی پاکستان اتحاد میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔
سوڈان میں، ایک اور فلیش پوائنٹ
سعودی عرب اور امریکہ نے سوڈانی فوج کو جنگ بندی کی نئی پیشکش کی ہے، لیکن حکومتی ذرائع کے مطابق، اس بار متحدہ عرب امارات (جو پہلے ثالثی کی کوششوں میں شامل تھا،) کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات طویل عرصے سے سوڈانی فوج کے خلاف "ریپڈ سپورٹ فورس" کی حمایت کر رہا ہے، لیکن ابوظہبی اس کی تردید کرتا ہے۔ صومالیہ نے بھی رواں ماہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ تمام معاہدے منسوخ کر دیئے تھے۔ اس اقدام کی وجہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے "صومالی لینڈ" کے الگ ہونے والے علاقے کی حمایت ہے، جسے اسرائیل نے گذشتہ ماہ تسلیم کیا تھا۔ ریاض ابوظہبی کشیدگی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، کچھ کہا نہیں جاسکتا، لیکن پاکستان جیسے ممالک کے لئے یہ ایک بڑا امتحان ہے، پاکستان کے دونوں سے گہرے اقتصادی مفادات وابستہ ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان ثالث بنتا ہے یا فریق۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متحدہ عرب امارات کے متحدہ عرب امارات کی تجزیہ کار کے درمیان کر رہا ہے کی حمایت ریاض اب کے خلاف کے ساتھ ہے اور کی وجہ نے بھی
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔