شفق قطبی کا نظارہ دیکھنے کیلیے سعودی سیاح کی ٹویوٹا ہائی لکس میں انوکھی مہم
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
سعودی عرب کے ایک نوجوان مہم جو نے دنیا کے نایاب ترین قدرتی مناظر میں سے ایک شفقِ قطبی (ناردرن لائٹس) کو دیکھنے کے لیے براعظموں پر محیط ایک غیرمعمولی زمینی سفر مکمل کیا۔
ملک السلطان نامی اس سعودی سیاح نے ریاض سے ایک تبدیل شدہ ٹویوٹا ہائی لکس میں سفر کا آغاز کیا اور یورپ کے مختلف ممالک عبور کرتے ہوئے شمالی ناروے پہنچے، جہاں انہوں نے شفقِ قطبی کا دلکش نظارہ دیکھا۔
شفقِ قطبی کیا ہے؟شفقِ قطبی یا ناردرن لائٹس رنگ برنگی روشنیوں کا ایک حسین قدرتی مظاہرہ ہے، جو اس وقت بنتا ہے جب سورج سے خارج ہونے والے چارج شدہ ذرات زمین کے مقناطیسی میدان اور بالائی فضا سے ٹکراتے ہیں۔ شمالی نصف کرے میں یہ نظارہ صرف مخصوص موسموں اور حالات میں ہی دکھائی دیتا ہے۔
سفر کا خیال کیسے پیدا ہوا؟ملک السلطان نے سعودی عرب کے معروف اخبار ’عرب نیوز‘ کو بتایا کہ انہیں نئی چیزیں آزمانا، مہم جوئی کرنا اور چیلنجز کا سامنا کرنا بے حد پسند ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2017 میں سوئٹزرلینڈ کے سفر کے دوران انہوں نے ایک گاڑی دیکھی جس پر خلیجی ملک کی نمبر پلیٹ لگی تھی۔
’اسی لمحے مجھے طویل زمینی سفر کا خیال آیا۔‘
منصوبہ مکمل ہونے کے بعد ان کے لیے منزل کا انتخاب آسان تھا۔ ملک السلطان نے بتایا ’جب سب کچھ تیار ہو گیا تو میں نے ناروے جانے کا فیصلہ کیا۔‘
27 سالہ ملک السلطان یونیورسٹی گریجویٹ اور ایک ملازم ہیں، جو سادہ اور حقیقت پسندانہ سفر کو ترجیح دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا ’میں اپنی مہم کو بغیر کسی مبالغے کے شیئر کرتا ہوں۔ میرا مقصد زیادہ سے زیادہ ممالک دیکھنا اور لوگوں کو بتانا ہے کہ وہاں کیا سیکھنے کو ملتا ہے اور اخراجات کتنے ہوتے ہیں۔‘
3 ہفتوں پر محیط طویل سفریہ سفر تقریباً 3 ہفتوں پر محیط تھا۔ اس دوران انہوں نے کئی ممالک میں قیام بھی کیا۔
ان کا روٹ سعودی عرب سے شروع ہو کر کویت، ترکیہ، بلغاریہ، شمالی مقدونیہ، البانیہ، کوسوو، مونٹی نیگرو، بوسنیا، کروشیا، سلووینیا، آسٹریا، اٹلی، سوئٹزرلینڈ، لیختن اسٹائن، فرانس، برطانیہ، بیلجیم، نیدرلینڈز، جرمنی، ڈنمارک، سویڈن اور آخر میں ناروے تک پہنچا۔
سفر کے دوران انہوں نے فرانس اور برطانیہ کے درمیان، ڈنمارک اور ناروے کے درمیان، اور ناروے کے اندر بھی فیری سروس استعمال کی۔
اکیلے طویل ڈرائیونگ کے بارے میں انہوں نے کہا ’یہ تھکا دینے والا تھا، مگر میں وقفے وقفے سے آرام کرتا رہا۔‘
بعض مراحل پر دوست بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے۔
انہوں نے اپنی 2020 ماڈل ٹویوٹا ہائی لکس 4×4 میں صرف ضروری تبدیلیاں کیں، جن میں ٹائرز اور چند استعمالی پرزے شامل تھے۔
ناروے کی برفانی صورتحال کے لیے انہوں نے خصوصی دھاتی کیلوں والے برفانی ٹائر استعمال کیے۔
مشکلات اور آزمائشیںملک السلطان کے مطابق گاڑی کو دور دراز علاقوں، بلند مقامات، بدلتے موسم اور طویل فاصلے میں سخت آزمائش کا سامنا رہا۔ اہم مشکلات میں رات گئے رہائش تلاش کرنا اور طویل فاصلوں کی تھکن شامل تھیں۔
شفقِ قطبی کا نظارہشفقِ قطبی عام طور پر رات کے وقت اور شہروں کی روشنی سے دور دکھائی دیتی ہے۔ اس کا موسم ستمبر کے آخر سے مارچ کے آخر تک رہتا ہے، مگر اس کے باوجود اسے دیکھنا قسمت پر منحصر ہوتا ہے۔ ملک السلطان ناروے کے شمالی شہر بودو کے قریب رانا کے علاقے میں اس مہینے کے آغاز میں شفقِ قطبی دیکھنے میں کامیاب ہوئے۔
’یہ کسی خواب جیسا تھا۔ شروع میں مجھے لگا یہ بادل ہیں یا کسی فیکٹری کا دھواں ہے۔ روشنیوں کے رنگ سبز اور سرخ تھے اور یہ نظارہ آدھے گھنٹے سے زیادہ جاری رہا۔‘
اس تجربے پر بات کرتے ہوئے ملک السلطان نے کہا کہ اس سفر نے انہیں صبر، خود انحصاری اور مشکلات سے لطف اندوز ہونا سکھایا۔ ’میں نے اپنے فیصلوں پر اعتماد کرنا اور چیلنجز کو قبول کرنا سیکھا۔‘
سفر کے دوران مختلف ممالک میں خاندانوں نے ان کی میزبانی کی۔ انہوں نے بتایا کہ لوگ میرے سفر کے بارے میں سن کر بہت پرجوش ہو جاتے تھے، خاص طور پر جب انہیں پتا چلتا کہ میں سعودی عرب سے ہوں۔
روایتی لباس میں فخرسخت سردی کے باوجود ملک السلطان نے سعودی روایتی لباس (ثوب اور شماغ) پہننا ترک نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ میری شناخت ہے، اور میں اس پر فخر کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے سعودی شہری کی مثبت تصویر اجاگر ہوئی، جس کی انہیں خوشی ہے۔
ملک السلطان کی مہم یہاں ختم نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا اگلا ہدف آئس لینڈ تک پہنچنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ملک السلطان نے انہوں نے کے لیے سفر کے نے کہا
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔