سعودی عرب کے ایک نوجوان مہم جو نے دنیا کے نایاب ترین قدرتی مناظر میں سے ایک شفقِ قطبی (ناردرن لائٹس) کو دیکھنے کے لیے براعظموں پر محیط ایک غیرمعمولی زمینی سفر مکمل کیا۔

ملک السلطان نامی اس سعودی سیاح نے ریاض سے ایک تبدیل شدہ ٹویوٹا ہائی لکس میں سفر کا آغاز کیا اور یورپ کے مختلف ممالک عبور کرتے ہوئے شمالی ناروے پہنچے، جہاں انہوں نے شفقِ قطبی کا دلکش نظارہ دیکھا۔

شفقِ قطبی کیا ہے؟

شفقِ قطبی یا ناردرن لائٹس رنگ برنگی روشنیوں کا ایک حسین قدرتی مظاہرہ ہے، جو اس وقت بنتا ہے جب سورج سے خارج ہونے والے چارج شدہ ذرات زمین کے مقناطیسی میدان اور بالائی فضا سے ٹکراتے ہیں۔ شمالی نصف کرے میں یہ نظارہ صرف مخصوص موسموں اور حالات میں ہی دکھائی دیتا ہے۔

سفر کا خیال کیسے پیدا ہوا؟

ملک السلطان نے سعودی عرب کے معروف اخبار ’عرب نیوز‘ کو بتایا کہ انہیں نئی چیزیں آزمانا، مہم جوئی کرنا اور چیلنجز کا سامنا کرنا بے حد پسند ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2017 میں سوئٹزرلینڈ کے سفر کے دوران انہوں نے ایک گاڑی دیکھی جس پر خلیجی ملک کی نمبر پلیٹ لگی تھی۔

’اسی لمحے مجھے طویل زمینی سفر کا خیال آیا۔‘
منصوبہ مکمل ہونے کے بعد ان کے لیے منزل کا انتخاب آسان تھا۔ ملک السلطان نے بتایا ’جب سب کچھ تیار ہو گیا تو میں نے ناروے جانے کا فیصلہ کیا۔‘
27 سالہ ملک السلطان یونیورسٹی گریجویٹ اور ایک ملازم ہیں، جو سادہ اور حقیقت پسندانہ سفر کو ترجیح دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا ’میں اپنی مہم کو بغیر کسی مبالغے کے شیئر کرتا ہوں۔ میرا مقصد زیادہ سے زیادہ ممالک دیکھنا اور لوگوں کو بتانا ہے کہ وہاں کیا سیکھنے کو ملتا ہے اور اخراجات کتنے ہوتے ہیں۔‘

3 ہفتوں پر محیط طویل سفر

یہ سفر تقریباً 3 ہفتوں پر محیط تھا۔ اس دوران انہوں نے کئی ممالک میں قیام بھی کیا۔
ان کا روٹ سعودی عرب سے شروع ہو کر کویت، ترکیہ، بلغاریہ، شمالی مقدونیہ، البانیہ، کوسوو، مونٹی نیگرو، بوسنیا، کروشیا، سلووینیا، آسٹریا، اٹلی، سوئٹزرلینڈ، لیختن اسٹائن، فرانس، برطانیہ، بیلجیم، نیدرلینڈز، جرمنی، ڈنمارک، سویڈن اور آخر میں ناروے تک پہنچا۔

فیری اور تنہا ڈرائیونگ کے چیلنجز

سفر کے دوران انہوں نے فرانس اور برطانیہ کے درمیان، ڈنمارک اور ناروے کے درمیان، اور ناروے کے اندر بھی فیری سروس استعمال کی۔
اکیلے طویل ڈرائیونگ کے بارے میں انہوں نے کہا ’یہ تھکا دینے والا تھا، مگر میں وقفے وقفے سے آرام کرتا رہا۔‘
بعض مراحل پر دوست بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے۔

انہوں نے اپنی 2020 ماڈل ٹویوٹا ہائی لکس 4×4 میں صرف ضروری تبدیلیاں کیں، جن میں ٹائرز اور چند استعمالی پرزے شامل تھے۔

ناروے کی برفانی صورتحال کے لیے انہوں نے خصوصی دھاتی کیلوں والے برفانی ٹائر استعمال کیے۔

مشکلات اور آزمائشیں

ملک السلطان کے مطابق گاڑی کو دور دراز علاقوں، بلند مقامات، بدلتے موسم اور طویل فاصلے میں سخت آزمائش کا سامنا رہا۔ اہم مشکلات میں رات گئے رہائش تلاش کرنا اور طویل فاصلوں کی تھکن شامل تھیں۔

شفقِ قطبی کا نظارہ

شفقِ قطبی عام طور پر رات کے وقت اور شہروں کی روشنی سے دور دکھائی دیتی ہے۔ اس کا موسم ستمبر کے آخر سے مارچ کے آخر تک رہتا ہے، مگر اس کے باوجود اسے دیکھنا قسمت پر منحصر ہوتا ہے۔ ملک السلطان ناروے کے شمالی شہر بودو کے قریب رانا کے علاقے میں اس مہینے کے آغاز میں شفقِ قطبی دیکھنے میں کامیاب ہوئے۔

’یہ کسی خواب جیسا تھا۔ شروع میں مجھے لگا یہ بادل ہیں یا کسی فیکٹری کا دھواں ہے۔ روشنیوں کے رنگ سبز اور سرخ تھے اور یہ نظارہ آدھے گھنٹے سے زیادہ جاری رہا۔‘

اس تجربے پر بات کرتے ہوئے ملک السلطان نے کہا کہ اس سفر نے انہیں صبر، خود انحصاری اور مشکلات سے لطف اندوز ہونا سکھایا۔ ’میں نے اپنے فیصلوں پر اعتماد کرنا اور چیلنجز کو قبول کرنا سیکھا۔‘

سفر کے دوران مختلف ممالک میں خاندانوں نے ان کی میزبانی کی۔ انہوں نے بتایا کہ لوگ میرے سفر کے بارے میں سن کر بہت پرجوش ہو جاتے تھے، خاص طور پر جب انہیں پتا چلتا کہ میں سعودی عرب سے ہوں۔

روایتی لباس میں فخر

سخت سردی کے باوجود ملک السلطان نے سعودی روایتی لباس (ثوب اور شماغ) پہننا ترک نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ میری شناخت ہے، اور میں اس پر فخر کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے سعودی شہری کی مثبت تصویر اجاگر ہوئی، جس کی انہیں خوشی ہے۔

ملک السلطان کی مہم یہاں ختم نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا اگلا ہدف آئس لینڈ تک پہنچنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ملک السلطان نے انہوں نے کے لیے سفر کے نے کہا

پڑھیں:

پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان

لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی