کشمیری آج بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منارہے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
کشمیر اور دنیا کے مختلف حصّوں میں موجود کشمیری آج 26 جنوری کو بھارتی یومِ جمہوریہ کے موقع پر یومِ سیاہ منارہے ہیں۔
کشمیر میں اور دنیا کے مختلف حصّوں میں موجود بہت سے کشمیری 26 جنوری کو بھارتی یومِ جمہوریہ کے موقع پر یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔
بھارتی یومِ جمہوریہ کمشیریوں کیلئے احتجاج اور سوگ کی علامت ہے کیونکہ کشمیریوں پر بھارت کی بربریت اور شب خون کی داستانیں تاریخ کا ایک سیاہ حصہ ہیں جو اب تک جاری ہے۔
بھارت یومیہ جمہوریہ منا کر کشمیریوں کے سیاسی، آئینی اور انسانی حقوق سلب کیے جانے کے اپنے ناپاک اقدام کو دنیا کی نظروں سے نہیں چھپا سکتا۔
یومِ سیاہ منانے کا مقصد بھارتی حکمرانی کے خلاف احتجاج کا اظہار ہے اور کشمیر کے تشخص کی یاد دہانی ہے۔
آج کا دن عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کشمیریوں کے حقِ آزادی کو سنجیدگی سے لے۔یہ نقطۂ نظر کشمیریوں کے ایک بڑے طبقے کی نمائندگی کرتا ہے۔
ان کے نزدیک یہ دن خوشی کے بجائے احتجاج اور سوگ کی علامت ہے، کیونکہ وہ اسے کشمیر میں جاری سیاسی، آئینی اور انسانی حقوق سے جڑے مسائل سے جوڑتے ہیں۔
یومِ سیاہ منانے کا مقصد بھارتی حکمرانی کے خلاف احتجاج کا اظہار اور کشمیر کے تشخص کی یاد دہانی ہے جبکہ آج کا دن عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کشمیریوں کے حقِ آزادی کو سنجیدگی سے لے۔ یہ نقطۂ نظر کشمیریوں کے ایک بڑے طبقے کی نمائندگی کرتا ہے۔
اس موقع پر حریت رہنما عبدالحمید لون کا کہنا تھا کہ بھارت کے یوم جمہوریہ کو آج لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 26 جنوری کو یوم سیاہ منایا کشمیری عوام کے حق آزادی ، خودارادیت ، اور انسانی حقوق کی جدوجھد کا اظہار ہے۔ یوم سیاہ منانے کا بنیادی مقصد عالمی برادری کو پیغام دینا ہے کہ کشمیری اپنے مادر وطن پر بھارت کے جبری قبضے کو مسترد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپنے حق کیلئے آواز بلند کرنے والے ہزاروں بیگناہ کشمیری آج بھی مختلف بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ بین الاقوامی برادری بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کشمیریوں کے بھارتی یوم یوم سیاہ کرتا ہے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔