بھارت کے یوم جمہوریہ پر کشمیری کل یوم سیاہ منائیں گے
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مظفرآباد: بھارت کے یوم جمہوریہ پر لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کشمیری یوم سیاہ منائیں گے۔
میڈیا ذرائع کےمطابق کل 26 جنوری پیر کو دارالحکومت سمیت آزاد کشمیر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بھارت مخالف احتجاج کیا جائے گا،کل جماعتی حریت کانفرنس ، پاسبان حریت سمیت مختلف تنظیمیوں کے زیر اہتمام ریلیاں نکالی جائیں گی۔
یوم سیاہ منا کر دنیا کو پیغام دیا جائے گا کہ بھارت جمہوری نہیں جارح ملک ہے، اُس نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر 78 برسوں غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ سے بھارت نے 5 لاکھ کشمیری شہید کیے ہیں ،آزادی مانگنے پر حالیہ 36 برسوں میں 96 ہزار 481 کشمیری شہید کئے گے، ایک لاکھ سے زائد بچے یتیم تین دہائیوں میں 22 ہزار سے زائد خواتین بیوہ ہوئیں۔ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد کشمیری تین دہائیوں کے حراست میں لئے گے ، گزشتہ تین دہائیوں میں کھربوں روپے سے زائد مالیت کی املاک بھی تباہ کردی گئیں،
مقبوضہ جموں وکشمیر میں جعلی ڈومیسائل کے ذریعے مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلا جارہا ہے، کشمیری یوم سیاہ منا کر عالمی برادری سے مطالبہ کریں گے کہ بھارت سے کشمیریوں کو آزادی دلوائی جائے، کشمیریوں کے حق میں پاس کردہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کروایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یوم سیاہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔