25 جنوری 1990: وہ دن جب کشمیر میں سوگ منانا بھی جرم بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
25 جنوری 1990 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے علاقے ہندواڑہ میں پیش آنے والا واقعہ کشمیری تاریخ کے المناک دنوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
اس روز بھارتی قابض فورسز نے ایک پُرامن اجتماع پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 21 نہتے کشمیری جان سے گئے جبکہ 75 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
عینی شاہدین کے مطابق ہندواڑہ میں ہونے والا اجتماع غیر مسلح شہریوں پر مشتمل تھا، جو وادی میں جاری قتل و غارت کے خلاف آواز بلند کرنے اور انصاف کا مطالبہ کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ اس وقت پوری وادی پہلے ہی گاؤکدل قتلِ عام کے صدمے میں تھی، تاہم حالات کو بہتر بنانے کے بجائے بھارتی حکام نے کرفیو، فوجی محاصرے اور جبری گرفتاریوں میں مزید شدت پیدا کر دی۔
مقامی ذرائع کے مطابق بھارتی فورسز نے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس سے پورا علاقہ خوف اور غم میں ڈوب گیا۔ اس واقعے کے بعد بھی حسبِ روایت نہ کوئی آزادانہ تحقیقات ہو سکیں اور نہ ہی ذمہ داران کو سزا دی گئی۔
ہندواڑہ قتلِ عام کو کشمیری عوام آج بھی ایک ایسے واقعے کے طور پر یاد کرتے ہیں جس نے یہ پیغام دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں نہ صرف احتجاج بلکہ غم منانا بھی جرم سمجھا جاتا ہے۔ یہ واقعہ کشمیریوں کی طویل جدوجہدِ آزادی کی ایک خونی کڑی قرار دیا جاتا ہے، جو آج بھی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔