رئیل سیکٹر و تعمیراتی شعبہ ملک کا معاشی انجن سمجھا جاتا ہے ‘آباد
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) کے چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی نے کہاکہ رئیل سیکٹر اور تعمیراتی شعبہ کسی بھی ملک کا معاشی انجن سمجھا جاتا ہے، پاکستان کی معیشت کو فروغ دینا ہے ہے توتعمیراتی شعبے سے منسلک سرمایہ کاروںسہولت فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایکسپو سینٹر میں بلڈ ایشیا تعمیراتی مشینری کی بین الاقوامی نمائش اور کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ احمداویس تھانوی نے پراپٹیک کی جانب سے کامیاب اور بروقت
پراگرام کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی صنعت ملک کی معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ اس شعبے سے درجنوں صنعتیں وابستہ ہیں اور لاکھوں افراد کا روزگار جڑا ہوا ہے۔انہوں نے بتایا کہ آباد سندھ میں زمینوں کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے تاکہ شفافیت کو فروغ دیا جا سکے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہو۔ اس حوالے سے آباد،بورڈ آف ریونیو سمیت حکومت سندھ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطے میں ہے اور عملی اقدام کے لیے تجاویز بھی پیش کی جا رہی ہیں۔انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اس وقت بلڈرز اور ڈیولپرز سرمایہ کاری اور تعمیرات کے حوالے سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ مہنگائی، پالیسیوں میں عدم تسلسل اور بزنس کے لیے غیر موافق ماحول نے تعمیراتی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بزنس فرینڈلی ماحول یقینی بنایا جائے تاکہ سرمایہ کاروں کو اعتماد حاصل ہو اور تعمیراتی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔ حکومت اگر واقعی معاشی استحکام اور روزگار کے مواقع بڑھانا چاہتی ہے تو تعمیراتی شعبے کو سہولتیں اور مراعات فراہم کرنا ناگزیر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔