8ماہ قبل ہمارا پاسپورٹ 140 ویں نمبر پر تھا اب 98پر آگیا، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر دفاع خواجہ آصف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل اور شہدا کے لہو سے ملک کی عزت میں اضافہ ہوا، ہم نے گزرے سال میں جنگ جیتی، ہماری افواج نے بہادری سے جنگ لڑی، دہشتگردی کے خلاف جوجنگ لڑرہےہیں اس کی مثال دنیا بھرمیں نہیں ملتی۔
خواجہ آصف کا کہناتھا کہ شہیدوں کی قربانیوں کے باعث آج وطن میں امن ہے، کے پی کے میں جہاد میں پاک فوج لڑ رہی ہے، اس جہاد میں کے پی حکومت کا کوئی عمل نہیں، کے پی حکومت اس جنگ میں تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے، پاک فوج نے اپنے سے پانچ گناہ طاقتور دشمن کو شکست دی، ایسی شکست دی کہ صدر ٹرمپ نے 62 بار کہا ہےکہ 6سے 8 بھارتی جہاز گرائے گے۔
پولیس افسران کی اکثریت ایمانداری سے تفتیش نہیں کر سکتی نوکری خطرے میں ہوتی ہے، سیاستدان ایماندار افسران اپنے علاقے میں برداشت نہیں کر سکتے
وزیر دفاع نے کہا کہ معرکہ حق ہماری افواج اورحق کا معرکہ تھا، تاریخ ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی، 8ماہ قبل ہمارا پاسپورٹ 140 ویں نمبر پر تھا اب 98پر آگیا، ہماری حکومت کی کامیابیوں میں پاک فوج کا بہت بڑا کردار ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے انسانی و مکینل وسائل بروئے کار لانے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراج پر نہانے پر پابندی یقینی بنائی جائے اور دریاؤں، ڈیموں اور بیراج کی ڈرون سے مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو بارش اور فلڈ سے آگاہ کرنے کے لیے مساجد اور میڈیا پر اعلانات کیے جائیں۔کرنٹ لگنے سے ہلاکتوں پر مریم نواز نے لیسکو اور دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نوٹس لینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غفلت کی وجہ سے لوگ جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھمبوں پر بجلی کے بے ہنگم لٹکتے تار انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واسا کمپلینٹ ہیلپ لائن پر فوری ایکشن کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔مریم نواز نے مون سون کے دوران ہر کنسٹرکشن سائٹ کو باقاعدہ محفوظ بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ انتظامیہ خستہ حال عمارتوں کا جائزہ لے کر رضاکارانہ طور پر خالی کروائے۔