پاکستان نے اسٹریٹجک سمجھداری اور مؤثر سفارت کاری کے ذریعے واشنگٹن میں خود کو ایک بار پھر ناگزیر اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر منوا لیا ہے۔ بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کی حالیہ سفارتی پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد نے علاقائی بحران کو عالمی سفارتی فائدے میں بدلنے کی کامیاب حکمتِ عملی اپنائی۔

دی ڈپلومیٹ کے مطابق مئی 2025 کے پاک بھارت تنازعے پر امریکی ثالثی کے دعوے کو بھارت کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات منجمد کیفیت میں داخل ہو گئے۔ اسی صورتحال کو پاکستان نے سفارتی موقع میں تبدیل کیا اور صدر ٹرمپ کے ثالثی کردار کو مثبت انداز میں سراہا۔ چار روزہ پاک بھارت جنگ کے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی آرمی چیف کو وائٹ ہاؤس مدعو کرنا اسی حکمت عملی کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے دورۂ وائٹ ہاؤس کے دوران بات چیت سیکیورٹی سے آگے بڑھ کر تجارت اور سرمایہ کاری تک پھیل گئی۔ اسی عرصے میں پاک امریکا انسداد دہشت گردی تعاون بحال ہوا اور تعلقات کے پرانے ستون کو نئی زندگی ملی۔

دی ڈپلومیٹ کے مطابق جولائی 2025 میں پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیرف میں کمی کا اہم تجارتی معاہدہ طے پایا، جس کے تحت امریکی کمپنیوں کی پاکستان کے وسائل میں طویل المدتی سرمایہ کاری شامل ہے۔ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا اور پاکستان مل کر بڑے تیل ذخائر کو ترقی دیں گے۔ دسمبر 2025 میں پاکستان کو ایف-16 طیاروں کے اپ گریڈ کے لیے امریکی منظوری بھی ملی، جس کی مجموعی مالیت 680 ملین ڈالر بتائی گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا نے بلوچ لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا، جبکہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ نہ ہونے پر امریکا نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا۔ دی ڈپلومیٹ کے مطابق صدر ٹرمپ اور ان کے قریبی مشیروں میں بھارتی حکومت کے خلاف شدید ناراضی پائی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں بھارت کو نہ کوآڈ سمٹ ملی، نہ صدارتی دورہ اور نہ ہی تجارتی ریلیف حاصل ہو سکا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی اسٹریٹجک اہمیت اور اثر و رسوخ کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ اسلام آباد کی دانشمندانہ سفارت کاری نے امریکا کے ساتھ تعلقات کو مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر استوار کیا، جبکہ علاقائی چیلنجز کو فائدے میں بدل کر پاکستان نے اپنے عالمی کردار کو نمایاں کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کی ثالثی کو جھٹلاتے ہوئے مودی حکومت نے بھارت کو سفارتی تنہائی، بھاری ٹیرف اور امریکی ناراضی کے حوالے کر دیا، جبکہ پاکستان نے اسی صورتحال کو اپنی سفارتی کامیابی میں بدل کر واشنگٹن میں اپنی سیاسی اور اقتصادی حیثیت کو مزید مضبوط کر لیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: میں پاکستان دی ڈپلومیٹ پاکستان نے کے مطابق

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار