ایران پر امریکی حملے کے خدشات: خامنہ ای کی خفیہ مقام پر منتقلی کی متضاد رپورٹس
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ممکنہ طور پر زیر زمین پناہ گاہ منتقل کیے جانے سے متعلق متضاد رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیش نظر تہران میں واقع ایک خصوصی اور مضبوط کمپلیکس میں خامنہ ای کو منتقل کیا گیا ہے۔ اس کمپلیکس میں ایک دوسرے سے منسلک سرنگیں موجود ہیں جو ہنگامی حالات میں اعلیٰ قیادت کے تحفظ کے لیے بنائی گئی ہیں۔
اس حوالے سے رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خامنہ ای کے تیسرے بیٹے مسعود خامنہ ای اس دوران ان کے دفتر کے روزمرہ امور کی نگرانی کر رہے ہیں، تاہم ایرانی حکام نے ان تمام اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سرکاری طور پر تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ملک کی قیادت معمول کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔
ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ ایسی رپورٹس کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور نفسیاتی دباؤ پیدا کرنا ہے۔
اسی تناظر میں بھارت کے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ممبئی میں تعینات ایران کے قونصل جنرل سعید رضا مصیب مطلق نے کہا کہ ایران کسی بھی غیر ملکی طاقت سے خوفزدہ نہیں ہے اور ملک کی دفاعی صلاحیت مکمل طور پر مستحکم ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے جنگی بحری بیڑے کی مشرق وسطیٰ میں تعیناتی ایران کے لیے کوئی نیا معاملہ نہیں اور ایران ہر ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری نقل و حرکت کے پیش نظر ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب گارڈز کے سربراہ جنرل محمد پاکپور نے امریکا اور اسرائیل کو سخت وارننگ جاری کی ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ کسی بھی قسم کی مہم جوئی یا جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ جنرل پاکپور کے مطابق ایران کی مسلح افواج پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہیں، اہداف واضح ہیں اور دفاعی نظام مکمل الرٹ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ بیانات اور رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں تناؤ ایک بار پھر خطرناک سطح کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ اگرچہ ایرانی حکام زیر زمین پناہ گاہ سے متعلق خبروں کو مسترد کر رہے ہیں، تاہم سیکورٹی اقدامات میں اضافے اور عسکری قیادت کے سخت بیانات اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ ایران کسی بھی ممکنہ امریکی یا اسرائیلی اقدام کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر