ممکنہ امریکی حملے کا خدشہ: آیت اللہ خامنہ ای کو زیرِ زمین پناہ گاہ منتقل کیے جانے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیشِ نظر تہران میں ایک خصوصی زیرِ زمین پناہ گاہ منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ دعویٰ ویب سائٹ ایران انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ مقام ایک مضبوط کمپلیکس ہے جس میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی سرنگیں شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے تیسرے بیٹے، مسعود خامنہ ای نے ان کے دفتر کے روزمرہ امور کی ذمہ داریاں سنبھالی ہوئی ہیں۔ایرانی حکام نے سرکاری طور پر ان رپورٹس کی تردید کی ہے۔
مزید پڑھیںامریکا نے ایران کی جانب بڑی فورس روانہ کردی، جنگی بحری جہاز اور طیارے شامل
ایران پر ممکنہ حملہ، مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج تعینات، تہران میں ہائی الرٹ
بھارتی ویب سائٹ این ڈین ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ممبئی میں ایران کے جنرل قونصلر سعید رضا مصیب مطلق نے کہا کہ ایران کسی بھی غیر ملکی طاقت سے خوفزدہ نہیں ہے امریکی جنگی جہاز بردار بحری بیڑے کی مشرق وسطیٰ تعیناتی کے پیش نظر ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب گارڈز کے چیف جنرل محمد پاکپور نے امریکا اور اسرائیل کو سخت وارننگ دی ہے کہ کسی بھی قسم کی مہم جوئی اور جارحیت سے باز رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کی فوج اب پہلے سے زیادہ تیار ہے، نگاہیں ہدف اور انگلیاں ٹرگر پر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خامنہ ای
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔