Islam Times:
2026-06-02@22:28:12 GMT

ایران کے خلاف شیڈو وار کی حکمت عملی

اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT

ایران کے خلاف شیڈو وار کی حکمت عملی

اسلام ٹائمز: منصوبہ یہ تھا کہ اگر اس ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر بدامنی پھیل جاتی ہے اور قومی سطح پر بھی کمزوری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے تو اس کے بعد ضرورت پڑنے پر محدود فوجی کارروائی انجام پائے۔ یہ نئی سازش ایران کو گھٹنے ٹیک دینے اور اسے نگلنے کے لیے ایک طرح کا کم خرچ طریقہ تھا۔ لیکن تین اہم عناصر نے اس سازش کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا، رہبر معظم انقلاب کی دانشمندانہ قیادت، سیکورٹی اداروں کی ذہانت آمیز حکمت عملی اور 12 جنوری کے دن ایرانی معاشرے کی جانب سے نظام اور انقلاب کے حق میں ملین مارچ کی صورت میں گہری بصیرت پر مبنی عظیم کارنامہ۔ ان تین عناصر نے اس دہشت گردانہ سازش کی کمر توڑ ڈالی۔ امریکہ کی جانب سے فوجی نقل و حرکت سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اب امریکہ کے پاس صرف ایک کارڈ باقی رہ گیا ہے اور وہ "شیڈو جنگ" کا کارڈ ہے۔ تحریر: ہادی محمدی

ٹرمپ کی جانب سے جنگ اور دھمکیوں کے سائے تلے ایران کے خلاف شروع کی گئی دہشت گردانہ بغاوت کی دوڑ دو ہفتوں بعد ملک بھر میں محب وطن اور انقلابی ایرانی شہریوں کے ملین مارچ پر اس طرح ختم ہو گئی جیسا کہ یہودی مصنف ایلن مزراحی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: "اس ہفتے جغرافیائی سیاست کے بڑے فاتح نے، جو آئندہ ماہ 86 سال کا ہو جائے گا، جدید ایرانی تاریخ میں غیر ملکی دشمن عناصر کی جانب سے تسلط اور بغاوت کی غرض سے انجام پانے والی سب سے بڑی سازش کو ناکام بنا ڈالا ہے اور اس نے اپنا مشن اور فرائض بہت ہی فطری اور قدرتی انداز میں انجام دیے ہیں گویا کچھ ہوا ہی نہیں ہے"۔ اس یہودی مصنف نے اپنی ٹویٹ میں رہبر معظم انقلاب کی تصویر شائع کر کے اس عظیم شکست کا اعتراف کیا ہے۔

ہم نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران انتہائی وسیع نفسیاتی اور میڈیا جنگ نیز شدید دہشت گردانہ سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ رہبر معظم انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے بقول ٹرمپ ذاتی طور پر میدان میں اتر چکا تھا تاکہ اس کی دھمکیاں اور ڈینگیں موثر واقع ہوں۔ قصہ یہ ہے کہ امریکی حکومت کے خارجہ پالیسی ساز ادارے پوری شد و مد سے عالمی اور علاقائی سطح پر بیک وقت کام کر رہے ہیں اور خاص طور پر دنیا میں اپنے تسلط اور اثرورسوخ کے بنیادی ڈھانچے کو منظم کرنے میں مصروف ہیں۔ بحری قزاقوں کی طرح مادورو کو اغوا کرتے ہیں، سی آئی اے کا ڈائریکٹر روڈریگز کے ساتھ تیل کی بات چیت کے لیے کراکس جاتا ہے اور کیوبا، کولمبیا اور میکسیکو بھی بین الاقوامی بدمعاشی کے نشانے پر ہیں۔

گرین لینڈ اور قبضے کا لالچ، قومی سلامتی کی ضرورت کے نام پر اور درحقیقت توانائی کے مختلف ذرائع اور نایاب معدنی کانوں کو لوٹنے کی بھوک، یورپ کے ساتھ کشیدگی کو بحر اوقیانوس کے دونوں کناروں پر ایک نئے قسم کے تصادم اور صف بندی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ غزہ اور شام میں مجرمانہ امن سازی کا شو جاری ہے۔ ڈوم برام عراقی کردستان کے علاقے میں جا کر مشرقی شام کی سطح مرتفع کے معاملے کو بارزانی سے جوڑ کر صہیونی ڈیوڈ کوریڈور کے لیے زمینہ تیار کرتا ہے اور وہ لبنان میں اسلامی مزاحمت اور حزب اللہ کی اسٹریٹجک طاقت کے لیے بھی حل تلاش کر رہے ہیں۔ چین اور روس پر قابو پانے کے لیے اور خاص طور پر بحیرہ احمر اور بحر ہند اور باب المندب کی جیواسٹریٹیجک آبی گزرگاہوں میں، فوجی اڈوں کی تنظیم نو اور فوجی تنصیبات مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔

سینٹ کام کو سونپے جانے والے اہم مشنز میں اضافہ ہو رہا ہے اور وسیع پیمانے پر فوجی نقل و حرکت جاری ہے جس کی بنیادی وجہ ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں ایران کی ممکنہ طاقت اور جوابی کاروائی انجام دینے کی وسعت ہے۔ اگرچہ ٹرمپ کی جانب سے جاری کی گئی ڈاکٹرائن کی نئی دستاویز میں چین اور روس کو خطرے کی بجائے حریف اور شراکت دار کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن مغربی ایشیا اور بحر ہند نیز مشرقی افریقہ اور بحیرہ احمر میں انجام پانے والی زیادہ تر امریکی سرگرمیوں کا تعلق عالمی سطح پر چین اور روس کو روکنے اور ان کا مقابلہ کرنے سے ہے۔  یوکرین کا معاملہ اور ٹرمپ کا فریب آمیز امن منصوبہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکا اور یورپ، ٹرمپ کے منصوبوں کے لیے قربانی کا بکرا بننے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

لہذا یہ مسئلہ امریکہ اور یورپ کے لیے مسلسل ہنگامی اور فوجی صورت حال کے طور پر جاری ہے۔ ایسے حالات میں ٹرمپ نے غاصب صیہونی رژیم اور امریکہ کے نئے اندازوں کی بنیاد پر کہ ایران مزاحمتی محاذ پر پیشرفت کا اصل محور ہے اور اس پر قابو پائے بغیر یمن، لبنان اور عراق میں اسٹریٹجک کامیابیاں حاصل نہیں کی جا سکتیں، ایران کے خلاف بھرپور دھمکی آمیز شو اور دہشت گردانہ منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔ اگرچہ ایران میں رونما ہونے والی اس دہشت گردانہ ہنگامہ آرائی کو اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی 12 روزہ ناکام جنگ کا تسلسل سمجھا جانا چاہیے، لیکن ٹرمپ اپنے عالمی آمرانہ طرز عمل کی خاطر کسی ایسے مہنگے فوجی جوئے میں شامل ہونے کے لیے تیار نہیں جس کا انجام نامعلوم ہو۔ لہذا ایران کے خلاف حالیہ دہشت گردانہ منصوبہ صرف شیڈو جنگ کی حد تک  تیار کیا گیا تھا۔

منصوبہ یہ تھا کہ اگر اس ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر بدامنی پھیل جاتی ہے اور قومی سطح پر بھی کمزوری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے تو اس کے بعد ضرورت پڑنے پر محدود فوجی کارروائی انجام پائے۔ یہ نئی سازش ایران کو گھٹنے ٹیک دینے اور اسے نگلنے کے لیے ایک طرح کا کم خرچ طریقہ تھا۔ لیکن تین اہم عناصر نے اس سازش کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا، رہبر معظم انقلاب کی دانشمندانہ قیادت، سیکورٹی اداروں کی ذہانت آمیز حکمت عملی اور 12 جنوری کے دن ایرانی معاشرے کی جانب سے نظام اور انقلاب کے حق میں ملین مارچ کی صورت میں گہری بصیرت پر مبنی عظیم کارنامہ۔ ان تین عناصر نے اس دہشت گردانہ سازش کی کمر توڑ ڈالی۔ امریکہ کی جانب سے فوجی نقل و حرکت سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اب امریکہ کے پاس صرف ایک کارڈ باقی رہ گیا ہے اور وہ "شیڈو جنگ" کا کارڈ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: رہبر معظم انقلاب ایران کے خلاف کی جانب سے اور اس ہے اور کے لیے کی گئی

پڑھیں:

کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار

پشاور:

خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔

ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان