تجارت سے محاذ آرائی تک : بدلتا عالمی منظرنامہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو خبردار کیا کہ اگر اس نے چین کے ساتھ کوئی تجارتی معاہدہ کیا تو امریکا کینیڈا سے آنے والی تمام اشیا پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دے گا۔ دوسری جانب ایران پر ممکنہ حملہ کے پیش نظر مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی تعداد اس ہفتے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پاسداران انقلاب کے چیف نے کہا ہے کہ ان کی فوج اب پہلے سے زیادہ تیار ہے۔ منہ توڑ جواب دیں گے۔ جب کہ ابوظہبی میں روس یوکرین مذاکرات ناکام، دو روزہ بات چیت بغیر نتیجے کے ختم ہو گئی، امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور اگلے ہفتے اتوار کو ابوظہبی میں ہوگا۔
عالمی سیاست ایک بار پھر ایسے نازک اور خطرناک موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے، جہاں طاقت کے مظاہرے، معاشی دباؤ، عسکری نقل و حرکت اور سفارتی محاذ آرائی ایک دوسرے میں اس طرح الجھ چکے ہیں کہ مستقبل قریب میں کسی بڑے بحران کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور اقدامات نے نہ صرف عالمی تجارتی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ بین الاقوامی تعلقات میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
کینیڈا کو چین کے ساتھ تجارتی معاہدے کی صورت میں سو فیصد ٹیرف کی دھمکی، مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں غیر معمولی اضافہ، ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، اور روس و یوکرین مذاکرات کی ناکامی، یہ سب واقعات ایک ہی زنجیر کی کڑیاں محسوس ہوتے ہیں جو اس امر کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ دنیا ایک نئے غیر یقینی دور میں داخل ہو رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کو کھلی دھمکی دینا کہ اگر اس نے چین کے ساتھ کوئی تجارتی معاہدہ کیا تو امریکا کینیڈا سے آنے والی تمام اشیا پر سو فیصد ٹیرف عائد کر دے گا، درحقیقت محض دو ممالک کے درمیان تجارتی اختلاف نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان جاری معاشی جنگ کا تسلسل ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی ابتدا ہی سے چین کو عالمی تجارت میں محدود کرنے اور اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے گرد گھومتی رہی ہے۔ امریکا یہ سمجھتا ہے کہ چین نہ صرف ایک معاشی حریف ہے بلکہ مستقبل میں عالمی سیاسی اور عسکری نظام کو بھی چیلنج کر سکتا ہے، اسی لیے واشنگٹن چین کے گرد ایک معاشی اور سفارتی گھیرا تنگ کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
کینیڈا، جو امریکا کا قریبی اتحادی اور ہمسایہ ملک ہے، اگر اپنی معاشی ضروریات اور قومی مفاد کے تحت چین کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ ایک خود مختار ریاست کے طور پر اس کا حق ہے۔ تاہم امریکی صدر کا یہ طرزِ عمل کہ وہ اپنے اتحادی ملک کو دھمکیوں اور تضحیک آمیز القابات کے ذریعے دباؤ میں لانے کی کوشش کریں، نہ صرف سفارتی آداب کے منافی ہے بلکہ اتحادی تعلقات کے تصور کو بھی کمزور کرتا ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم کو ’’گورنر کارنی‘‘ کہہ کر مخاطب کرنا اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جس میں بعض بڑی طاقتیں اپنے اتحادیوں کو برابر کا شریک نہیں بلکہ تابع سمجھنے لگتی ہیں۔
ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ چین کینیڈا کے سماجی ڈھانچے کو نگل جائے گا اور اسے امریکا کے خلاف استعمال کرے گا، دراصل خوف اور اندیشوں کی سیاست کا ایک واضح مظہر ہے۔ چین کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنے والے تمام ممالک کو ممکنہ خطرہ قرار دینا ایک سادہ مگر خطرناک بیانیہ ہے جس کا مقصد دنیا کو واضح بلاکس میں تقسیم کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور میں عالمی معیشت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور کسی ایک بڑی معیشت کو مکمل طور پر الگ تھلگ کرنا نہ ممکن ہے اور نہ سود مند ہی۔
گرین لینڈ کے اوپر مجوزہ امریکی میزائل دفاعی نظام ’’گولڈن ڈوم‘‘ کے حوالے سے کینیڈا پر لگائے گئے الزامات بھی اسی وسیع تر تناظر میں دیکھے جانے چاہئیں۔ امریکا اپنی سلامتی کو عسکری نظاموں اور دفاعی ڈھانچوں کے ذریعے محفوظ بنانا چاہتا ہے، جب کہ بعض اتحادی ممالک اس حوالے سے اپنے خدشات اور تحفظات رکھتے ہیں۔ اختلاف رائے کو شمالی امریکا کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دینا ایک ایسا مؤقف ہے جو باہمی اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سلامتی صرف میزائل شیلڈز سے نہیں بلکہ خطے کے ممالک کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ حکمت عملی سے بھی وابستہ ہوتی ہے۔
عالمی منظر نامے کا دوسرا اور کہیں زیادہ تشویشناک پہلو مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ ایران پر ممکنہ حملے کی باتیں، امریکی فوجی بیڑوں کی خطے کی جانب پیش قدمی، اور جنگی ساز و سامان کی بڑے پیمانے پر تعیناتی اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ امریکا ایک بار پھر طاقت کے استعمال کے آپشن کو سنجیدگی سے زیر غور لا رہا ہے۔ امریکی صدر کا یہ کہنا کہ یہ اقدامات احتیاطی تدابیر کے طور پر کیے جا رہے ہیں، ان دعوؤں کی یاد دلاتا ہے جو ماضی میں عراق اور دیگر ممالک کے خلاف کارروائیوں سے قبل کیے گئے تھے۔
اگر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے کسی قسم کی فوجی مہم جوئی کی گئی تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے، عالمی معیشت کو دھچکا لگ سکتا ہے اور لاکھوں انسان ایک نئی جنگ کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا یہ کہنا کہ اس نوعیت کی فوجی نقل و حرکت کا مطلب جنگ کے سوا کچھ اور نہیں، عالمی برادری کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے جسے نظر انداز کرنا دانش مندی نہیں ہوگی۔
اسی دوران یورپ میں جاری روس یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو بھی ایک بڑا دھچکا اس وقت لگا جب ابوظہبی میں امریکا کی ثالثی میں ہونے والے دو روزہ مذاکرات کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے۔ اگرچہ مذاکرات کے ماحول کو مثبت اور تعمیری قرار دیا گیا اور فریقین نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے امن فریم ورک پر غور کیا، لیکن کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ پانا اس بات کی علامت ہے کہ دونوں جانب اعتماد کی کمی اور بنیادی اختلافات بدستور موجود ہیں۔روس یوکرین جنگ نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا کے لیے سنگین نتائج کی حامل رہی ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، خوراک کی قلت، مہاجرین کا بحران اور عالمی سپلائی چین میں رکاوٹیں اس جنگ کے چند نمایاں اثرات ہیں۔ ہر ناکام مذاکراتی دور اس خدشے کو مزید تقویت دیتا ہے کہ یہ جنگ طویل ہوتی چلی جائے گی اور اس کی قیمت عام شہریوں کو چکانا پڑے گی۔ یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی کا یہ کہنا کہ اگر مثبت پیش رفت جاری رہی تو مزید مذاکرات متوقع ہیں، امید ضرور دلاتا ہے، مگر عملی اقدامات کے بغیر یہ امید کمزور ثابت ہو سکتی ہے۔
ان تمام عالمی واقعات کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو ایک واضح تصویر سامنے آتی ہے کہ دنیا تیزی سے ایک ایسے دور کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں طاقت کی سیاست، تجارتی جنگیں اور عسکری دباؤ معمول بنتے جا رہے ہیں۔ امریکا ایک طرف چین کو عالمی نظام میں محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے، دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی بڑھا رہا ہے، اور تیسری طرف روس یوکرین تنازع میں ثالثی کے باوجود کسی فیصلہ کن کامیابی سے محروم دکھائی دیتا ہے۔ اس صورتحال میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کے لیے اپنے قومی مفادات کا تحفظ مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
عالمی برادری کے لیے اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا دنیا ایک بار پھر سرد جنگ جیسی محاذ آرائی کی طرف جا رہی ہے یا پھر عقل، تدبر اور سفارت کاری کو موقع دیا جائے گا۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ معاشی پابندیاں، دھمکیاں اور فوجی طاقت کے استعمال نے کبھی دیرپا امن نہیں دیا۔ اس کے برعکس مکالمہ، سمجھوتہ اور باہمی احترام ہی وہ راستے ہیں جو تنازعات کو پائیدار حل کی طرف لے جا سکتے ہیں۔آج کی دنیا کو ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو وقتی سیاسی فائدے کے بجائے طویل المدتی عالمی استحکام کو ترجیح دیں۔
عالمی اداروں کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا، اقوام متحدہ اور دیگر فورمز کو محض بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات کی طرف بڑھنا ہوگا، اور طاقتور ممالک کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اکیسویں صدی میں مسائل کا حل یکطرفہ فیصلوں اور دھمکیوں میں نہیں بلکہ مشترکہ ذمے داری میں ہے۔اگر موجودہ عالمی رجحانات کو نہ بدلا گیا تو آنے والا وقت مزید کشیدگی، معاشی بحرانوں اور جنگی خطرات سے بھرا ہو سکتا ہے۔ اس کے اثرات کسی ایک خطے یا ملک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری انسانیت اس کی قیمت ادا کرے گی۔ یہی وہ لمحہ ہے جب عالمی ضمیر کو جاگنا چاہیے اور دنیا کو ایک بار پھر امن، انصاف اور تعاون کے راستے پر ڈالنے کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے، ورنہ تاریخ ایک بار پھر یہی فیصلہ سنائے گی کہ طاقت کی اندھی دوڑ نے انسان کو خود اپنے ہی ہاتھوں نقصان اور تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چین کے ساتھ ایک بار پھر روس یوکرین امریکی صدر کے درمیان نہیں بلکہ امریکا کی ممالک کے سکتا ہے کی کوشش کی فوجی کی جانب کی طرف کا ایک رہا ہے رہی ہے کے لیے جنگ کے
پڑھیں:
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
عالمی ردعملآسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
قانونی ماہرین کی رائےتجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرمپ ٹیرف