امریکی یونیورسٹی نے اعلیٰ ایرانی عہدیدار کی بیٹی کو نوکری سے برطرف کردیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
امریکا کی ایموری یونیورسٹی نے ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کی بیٹی فاطمہ اردشیر لاریجانی کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق فاطمہ لاریجانی ایموری یونیورسٹی کے میڈیکل اسکول سے وابستہ تھیں۔
رپورٹ کے مطابق فاطمہ اردشیر لاریجانی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں اور ہیماٹولوجی اور میڈیکل آنکولوجی کے مضامین پڑھا رہی تھیں۔
مزید پڑھیںاسرائیل ایران پر حملے کے موقع کی تلاش میں ہے، ترک وزیر خارجہ کا بڑا انکشاف
پاکستان کے ایران اور امارات کے ساتھ سفارتی و معاشی روابط مزید مستحکم
ایموری یونیورسٹی کے ون شپ کینسر انسٹی ٹیوٹ نے تصدیق کی ہے کہ فاطمہ لاریجانی اب ادارے کی ملازم نہیں رہیں، تاہم اس فیصلے کی وجوہات سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
واضح رہے کہ چند روز قبل امریکی ایوان نمائندگان کے رکن ارل کارٹر نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ایک خط ارسال کیا تھا، جس میں فاطمہ لاریجانی کو ملازمت سے برطرف کرنے اور ان کا میڈیکل لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس پیش رفت کے بعد یونیورسٹی کی جانب سے یہ اقدام سامنے آیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔