15 سالہ لڑکے نے پی ایچ ڈی کر کے تاریخ رقم کر دی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
بیلجیم میں 15 سالہ لڑکے نے پی ایچ ڈی کر کے نئی تاریخ رقم کر دی۔
یہ اللہ تعالی کی کبریائی کہ وہ کسی انسان کو بے پناہ صلاحیتوں سے نواز دے۔ ایک ایسا ہی انسان بیلجیم کا لارنٹ سائمنز ہے جس نے تین ماہ قبل محض پندرہ سال کی عمر میں یونیورسٹی آف انتروپ سے کوانٹم طبعیات میں پی ایچ ڈی کر کے انسانی ذہانت وصلاحیت کی درخشاں تاریخ میں نیا باب رقم کر دیا۔
مزید پڑھیںچین کا پاکستانی طلبہ کو ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے لیے مکمل فنڈڈ اسکالرشپس دینے کا اعلان
اس کا تھیسیز تھا:’’Bose polarons in superfluids and supersolids‘‘۔لارنٹ شعبہ مصنوعی ذہانت میں دوسری پی ایچ ڈی کرنے میونخ یونیورسٹی میں داخلہ لے چکا ہے۔
اب تھیسیز کا عنوان ہے:’’بڑھاپے کو شکست دے کر سپر انسان تخلیق کرنا۔‘‘لارنٹ کے والدین بیٹے کی شاندار کامیابیوں پر نازاں و شاداں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ایچ ڈی کر
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔