علیمہ خان کیخلاف 26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت 28 جنوری تک ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت 28 جنوری تک ملتوی کر دی گئی آج کی حاضری معافی درخواست منظور کر لی گئی، علیمہ خان پیش نا ہوئیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے سماعت کی وکیل صفائی فیصل ملک نے علیمہ خان کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان کی علیمہ خان کی لاہور میں دیگر مصروفیات ہیں آج عدالت حاضر ہونے سے قاصر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کل منگل کو میری دیگر عدالتی مصروفیات ہیں، مقدمہ کی تاریخ اس سے آگے کی دی جائے جس پر عدالت نے علیمہ خان کی آج کی تاریخ پیشی سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی۔
وکیل صفائی فیصل ملک نے علیمہ خان کے بینک اکاؤنٹ کو ڈی فریز کرنے اور ان کے بلاک کئے گئے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی بھی بحالی کی درخواست کی جسے عدالت نے سماعت کے لئے منظور کرتے سرکار کو نوٹس جاری کر دئیے، پراسیکیوٹر آئندہ تاریخ ان درخواستوں پر اپنے دلائل دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے علیمہ خان علیمہ خان کی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔