پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان برقرار رہا جہاں ہفتے کے پہلے کاروباری روز100  انڈیکس تاریخی طور پر پہلی بار 191,000 پوائنٹس کی سطح عبور کر لی۔

صبح 10:05 بجے بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 190,836.78 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو کہ 1,669.96 پوائنٹس یعنی 0.88 فیصد کا اضافہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟

یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب آج اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس متوقع ہے، جس میں اہم شرح سود کے فیصلے کیے جائیں گے۔

آٹوموبائل اسمبلی، سیمنٹ، کھاد، تیل و گیس ایکسپلوریشن کمپنیز، آئل مارکیٹنگ کمپنیز، پاور جنریشن اور ریفائنری سمیت اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔

PSX Opened Positive ????
☀️ KSE 100 opened positive by +1261.

28 points this morning. Current index is at 190,428.11 points (9:45 AM) pic.twitter.com/4t3rSTkjxF

— Investify Pakistan (@investifypk) January 26, 2026

اٹک ریفائنری، حبکو، ماری انرجیز، او جی ڈی سی، فوجی فرٹیلائزر، حبیب بینک اور مسلم کمرشل بینک جیسے بھاری شیئرز سبز زون میں ٹریڈ ہوئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کویت انویسٹمنٹ کمپنی (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے پیر کو کہا 2026 کے پہلے مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس میں بیشتر ماہرین 50 بیسس پوائنٹس کی شرح سود میں کمی کی توقع کررہے ہیں، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں مثبت جذبہ برقرار ہے۔

مزید پڑھیں:روپے کی قدر میں مضبوطی، پاکستانی معیشت کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟

سیکنڈری مارکیٹ میں کم ییلڈز، زر مبادلہ میں بہتر آمدنی، 9,500 بی پی ڈی نئے تیل کی دریافت، اور 13 ارب ڈالر سے زائد کے دفاعی معاہدے پاکستانی شیئرزمارکیٹ کی رفتار کو مضبوط کر رہے ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور سعودی عرب و ترکی کے ساتھ دفاعی تعاون میں اضافہ اعتماد کو مزید بڑھا رہا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد آج مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں میڈیا کو بریف کریں گے۔

پچھلے اجلاس میں کمیٹی نے مارکیٹ کو حیران کرتے ہوئے پالیسی ریٹ 50 بیسس پوائنٹس کم کر کے 10.50 فیصد کر دیا تھا، کیونکہ اوسط مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر تھی۔

مزید پڑھیں:ڈھانچہ جاتی اصلاحات، نجکاری اور ڈیجیٹائزیشن سے معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے، اسحاق ڈار

ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کے مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس میں مزید شرح سود میں کمی کی توقع ہے، جس میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کی کمی ممکن ہے۔

گزشتہ ہفتے، پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے ایک شاندار ہفتے کا اختتام کیا، جہاں کے ایس ای 100  انڈیکس 189,166.83 پوائنٹس کے تمام وقت کے ریکارڈ اختتامی سطح پر پہنچ گیا۔

بین الاقوامی منظرنامہ

ہفتہ وار بنیاد پر 4,068 پوائنٹس یعنی 2.2 فیصد کا اضافہ ہوا، جس کی وجہ سے جغرافیائی کشیدگی میں کمی، غیر ملکی سرمایہ کاری میں تجدید، حکومت کے بانڈ ییلڈز میں کمی، اور مزید مانیٹری پالیسی میں آسانی کی توقعات تھیں۔

سونے کی قیمت پیر کو ایک اونس $5,000 سے تجاوز کر گئی، جس کی وجہ ڈالر کی کمزوری اور سرمایہ کاروں کی جانب سے محفوظ اثاثوں میں سرمایہ کاری ہے، جبکہ گرین لینڈ اور ایران کے تنازعات نے مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا۔

ین کی قیمت 1 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 153.99 فی ڈالر ہو گئی، جمعہ کو شدید اتار چڑھاؤ کے بعد، جس سے ممکنہ امریکی جاپانی مداخلت کی قیاس آرائی کی گئی۔

نیویارک فیڈرل ریزرو نے جمعہ کو شرح سود کی جانچ کی، جس سے ڈالر کی قیمت کم ہوئی اور دیگر کرنسیوں کی قدر بڑھی۔

مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج: سرمایہ کاروں کی تعداد میں 41 فیصد اضافہ

جاپان کا نکی انڈیکس تقریباً 2 فیصد گر گیا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 اور یورپی فیوچرز بھی کم ہو گئے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مارکیٹ کو وقتی ریلیف دیتے ہوئے گرین لینڈ پر عائد تجارتی دھمکیوں کو واپس لیا اور ممکنہ سخت کارروائی کو کم ظاہر کیا، تاہم ایران کے خلاف مزید پابندیاں مارکیٹ کی تشویش کو بڑھا رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسٹاک ایکسچینج اسٹیٹ بینک انڈیکس پاکستان جغرافیائی کشیدگی جمیل احمد حبیب بینک ڈالر ڈونلڈ ٹرمپ شرح سود فیڈرل ریزرو گرین لینڈ گورنر مانیٹری پالیسی کمیٹی مسلم کمرشل بینک نیویارک

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹاک ایکسچینج اسٹیٹ بینک انڈیکس پاکستان جغرافیائی کشیدگی جمیل احمد ڈالر ڈونلڈ ٹرمپ فیڈرل ریزرو گرین لینڈ گورنر مانیٹری پالیسی کمیٹی نیویارک اسٹاک ایکسچینج پاکستان اسٹاک پوائنٹس کی

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ