لائیو شو کے دوران نشو بیگم اور صاحبہ کی صلح ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری سے وابستہ معروف سینئر اداکارہ نشو بیگم اور ان کی بیٹی و اداکارہ صاحبہ کے درمیان 2024 کے اواخر سے جمی برف پگھلنے لگی۔
حال ہی نشو بیگم کی ملاقات اپنی بیٹی صاحبہ سے دوبارہ ہوئی، جن سے کچھ عرصے تک ان کے تعلقات میں سردمہری رہی۔
ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب پر متحرک رہنے والی نشو بیگم کے نئے لائیو شو کے دوران صاحبہ سے صلح ہوگئی۔
لائیو شو کے دوران اچانک صاحبہ اپنی والدہ کے کچن میں داخل ہو کر انہیں حیران کر دیا، جہاں نشو بیگم اپنے ڈیجیٹل میڈیا چینل کے لیے کھانا تیار کر رہی تھیں۔ صاحبہ نے اپنی والدہ کو گلے لگایا اور پوچھا کہ کیا آپ کومیری یاد آتی ہے، جس پر نشو بیگم نے جواب دیا کہ جب سے میرے بچے کراچی منتقل ہوئے ہیں، میں انہیں بےحد یاد کرتی ہوں۔
نشو بیگم نے مزید کہا کہ آج اپنی بیٹی سے ملاقات کے بعد میں خود کو زندہ اور جوان محسوس کر رہی ہوں اور مجھے یوں لگتا ہے جیسے میری عمر زیادہ سے زیادہ 22 سال ہو۔
ان کے مطابق یہ سب بیٹی سے محبت کا اثر ہے، کیونکہ بچوں کی محبت ماں کو جو توانائی دیتی ہے، اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ میں اب بھی خود کو اتنا جوان کیوں محسوس کرتی ہوں، ٹک ٹاک ویڈیوز کیوں بناتی ہوں اور ہر وقت تیار کیوں رہتی ہوں، جس کی وجہ میرے بچوں کی دی ہوئی توانائی ہے۔
انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ بعض لوگ وقت سے پہلے اپنے والدین کو ریٹائر کر دیتے ہیں اور اولڈ ایج ہومز بھیج دیتے ہیں، مگر میرے بچے ایسے نہیں ہیں۔
دوسری جانب صاحبہ نے کہا کہ لوگ ہر حال میں تنقید کرتے رہیں گے، اس لیے انسان کو وہی کرنا چاہیے جو وہ خود کرنا چاہتا ہے۔
نشو بیگم کے مداح اپنی پسندیدہ اداکارہ اور ان کی بیٹی کی اس ملاقات پر بے حد خوش ہیں اور ان کے وی لاگ کے کمنٹس میں تبصرہ کرتے ہوئے دعاؤں اور نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ 2024ء میں صاحبہ کی اپنے حقیقی والد سے زندگی میں پہلی بار ملاقات ہوئی تھی۔ بعدازاں ملاقات صاحبہ اور نشو بیگم کے درمیان تعلقات خراب ہونے کی خبریں سامنے آئیں تھی۔
اس وقت ایک انٹرویو کے دوران نشو بیگم نے انکشاف کیا تھا کہ 8 ماہ ہوگئے ہیں بیٹی سے ملاقات نہیں ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔