کشمیر پر بھی خصوصی بورڈ آف پیس کا قیام ناگزیر ہے, مشعال ملک
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ غزہ کی طرح کشمیر پر بھی خصوصی بورڈ آف پیس کا قیام ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ غزہ کی طرح کشمیر پر بھی خصوصی بورڈ آف پیس کا قیام ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ یاسین ملک کی جان کو خطرات لاحق، فوری رہائی ضروری ہے، سن 2000ء کے امن عمل کو دوبارہ بحال کیا جائے، کشمیر کا منصفانہ حل ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، کشمیر آج بھی دنیا کا سب سے حساس اور خطرناک نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو امنِ عالم کیلئے کوششوں پر خراج تحسین پیش کرتی ہوں، پاکستان کا امن کے پلیٹ فارم پر آگے بڑھنا ایک مضبوط اور واضح پیغام ہے۔ مشعال ملک نے مزید کہا کہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی امن کے وعدوں کی تکمیل کی یاد دہانی کراتی ہوں، اگر بورڈ آف پیس واقعی امن کے لئے ہے تو کشمیر کو اس کے ایجنڈے میں شامل کرنا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بورڈ آف پیس مشعال ملک
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔