data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260126-01-24
لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی میڈیا کے مطابق ٹرمپ تنازع کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لاسکتے ہیں۔امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں تعمیرنو سے متعلق بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے بھارت کو بھی دعوت دی ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بھارت اس دعوت کو قبول کرے گا یا نہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس بورڈ کا مقصد غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کو مستقل بنانا اور فلسطینی علاقے میں ایک عبوری حکومت کی نگرانی کرنا ہے۔وزیرِ اعظم نریندر مودی ان کئی عالمی رہنماؤں میں شامل ہیں جنہیں ٹرمپ نے بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔تاہم جمعرات کو جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’بورڈ آف پیس‘ کا باضابطہ آغاز کیا تو بھارت ان ممالک میں شامل تھا جو تقریب میں موجود نہیں تھے۔جن ممالک نے ٹرمپ کی دعوت قبول کی ان میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔ٹرمپ نے کہا ہے کہ 59 ممالک نے بورڈ میں شامل ہونے کے لیے دستخط کیے ہیں لیکن ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران منعقد ہونے والی اس تقریب میں صرف 19 ممالک کے نمائندے ہی موجود تھے۔ امریکی صدر کے بقول ’یہ صرف امریکا کے لیے نہیں، بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم اسے دوسری جگہوں پر پھیلا سکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے غزہ میں کامیابی سے کیا۔‘’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے پر بھارت کے غیر فیصلہ کن ہونے کے بارے میں بحث جاری ہے۔ کچھ ماہرین اس میں شامل ہونے کی وکالت کر رہے ہیں جبکہ بہت سے لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔اقوامِ متحدہ میں بھارت کے سابق سفیر سید اکبر الدین نے 23 جنوری کو ’ٹائمز آف انڈیا‘ میں لکھا کہ بھارت کو اس بورڈ میں شامل نہیں ہونا چاہیے‘ ٹرمپ کا بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 سے متصادم ہے‘ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کی کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی، اسے غزہ کے باہر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے‘ بورڈ آف پیس صدر ٹرمپ پر بہت زیادہ انحصار کر رہا ہے‘اس کے قیام کے اخراجات، تنخواہیں کی فراہمی اور مستقل رکنیت، یہ شراکت سے بڑھ کر معاملات ہیں۔اکبر الدین کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کے بعض عہدے دار بھی یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ یہ فریم ورک دوسرے تنازعات والے علاقوں پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بہت سے لوگ اقوامِ متحدہ کے متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں‘ ٹرمپ کا تفصیلی بیان بورڈ کے امن قائم کرنے کے کردار کے بارے میں بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔جرمن نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں بھارت کے سابق مستقل مندوب ٹی ایس ترمورتی کا خیال ہے کہ بھارت کو بھی اس بورڈ میں شامل ہونا چاہیے‘ یہ بورڈ اقوامِ متحدہ کو چیلنج نہیں کر رہا، کیونکہ اس کی نمائندگی محدود ہے لیکن یہ جی 20 کے متوازی ضرور قرار دیا جا سکتا ہے، جس کے ارکان کی تعداد کم ہے‘ بھارت کی شرکت گلوبل ساؤتھ کے خدشات کو کمزور کرنے کے بجائے مضبوط کرے گی۔ رنجیت رائے، جو نیپال اور ویتنام میںبھارت کے سفیر تھے، کا ماننا ہے کہ بھارت کے لیے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ لینا آسان نہیں ہے۔ رنجیت رائے نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ بھارت کے مخمصے میں اضافہ ہوا ہے۔ چاہے بھارت اسے قبول کرے یا رد کرے، اس کا اثر پڑے گا۔ میرے خیال میں بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے خطرات زیادہ ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ ٹرمپ اس کے چیئرمین ہیں اور ان کے لین دین پر مبنی رویے سے انصاف کی توقع رکھنا بے معنی لگتا ہے۔‘وہ کہتے ہیں کہ اگر بھارت اس میں شامل نہیں ہوتا تو بھی اس کا اثر پڑے گا، کیونکہ اس فیصلے سے مغربی ایشیا متاثر ہو گا‘ مغربی ایشیا میں استحکام بھارت کی توانائی کی سلامتی، بھارتی تارکین وطن کے مفادات، جہاز رانی کے راستوں اور سرمایہ کاری کے لیے ضروری ہے۔رنجیت رائے کہتے ہیں کہ ’مجھے ڈر ہے کہ شامل ہونے سے، بھارت بورڈ آف پیس کے فیصلوں کی توثیق کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ٹرمپ کا بورڈ آف پیس یا بی او پی ایسے وقت میں تشکیل پا رہا ہے جب امریکا اقوام متحدہ کی کئی تنظیموں سے دستبردار ہو رہا ہے، یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ کیا بی او پی کا مقصد اقوام متحدہ کو غیر متعلقہ قرار دینا ہے؟ اکبرالدین نے ٹائمز آف انڈیا میں لکھا کہ ’کیا ممبر ممالک بی او پی کے چیئرمین کی اتھارٹی کو چیلنج کر سکتے ہیں؟ کیا بھارت دعوتوں، پیسے اور ذاتی اثر و رسوخ پر مبنی ماڈل کی حمایت کرے گا؟ بھارت کو اس جال میں نہیں پھنسنا چاہیے۔ خارجہ امور کی ماہر اور تجزیہ کار نروپما سبرامنیم کا کہنا ہے کہ اگر بھارت اس میں شامل ہوتا ہے تو بہت سے خطرات ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بھارت جلد بازی میں اس میں شامل نہیں ہو سکتا۔ کن شرائط کے تحت رکن ممالک اس کے چارٹر کے پابند ہوں گے؟ اس کی تشریح کا اختیار کس کے پاس ہو گا؟‘ وہ کہتی ہیں کہ ’بہت سے ممالک نے بورڈ میں شامل ہونے کے موقع سے فائدہ اٹھایا ہے۔ 23 جنوری کو بھارت کے معروف انگریزی اخبار دی ہندو نے اس مسئلے پر ایک اداریہ لکھا۔ جس میں کہا گیا کہ ’امریکا اور بھارت کے تعلقات میں پیدا ہونے والی دراڑ اور تجارتی مذاکرات کی نازک صورتحال بھی اس مرحلے پرٹرمپ کی دعوت کو مسترد نہ کرنے کی وجوہات ہو سکتی ہیں‘ ایسا کرنے سے ٹرمپ کی ناراضی مول لی جا سکتی ہے، جیسا کہ فرانسیسی صدر کے معاملے میں ہوا۔ لیک ہونے والے چارٹر کے مطابق ٹرمپ نے خود کو اس کا چیئرمین مقرر کیا ہے اور ایگزیکٹو بورڈ میں اپنے ذاتی دوستوں اور اہلِ خانہ کو بھی شامل کیا ہے۔ جاری کیے گئے چارٹر میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ بورڈ آف پیس کو دیگر تنازعات کے حل میں شامل کیا جائے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ ادارہ اقوامِ متحدہ کی جگہ لینے کی کوشش کر سکتا ہے۔ دی ہندو نے لکھا کہ ’بورڈ میں شامل ہونے کا پاکستان کا فیصلہ بھارت کے لیے ایک انتباہی اشارہ ہے، خاص طور پر اگر ٹرمپ نے تنازع کشمیر کو امن کے منصوبوں میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تو بورڈ آف پیس اسے حل کرنے کی کوشش کرے گا۔ ٹرمپ بارہا مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں جب کہ دوسری جانب بھارت کسی بھی تیسرے فریق کے کردار کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ ’ٹرمپ نے اس ادارے کو ابتدا میں غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان امن معاہدے کی نگرانی کے لیے قائم کیا تھا لیکن اب وہ اسے ایک ایسے ادارے میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اقوامِ متحدہ کا مقابلہ کر سکے۔‘ دی نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ ’اس کے چارٹر میں تنظیم کے صدر ٹرمپ کو غیر معمولی اختیارات دیے گئے ہیں، جن میں فیصلوں کو ویٹو کرنے، ایجنڈا طے کرنے، ارکان کی تقرری اور برطرفی، پورے بورڈ کو تحلیل کرنے اور اپنے جانشین کو نامزد کرنے کے اختیارات شامل ہیں۔‘بورڈ کا قیام ایک ایسے وقت میں عمل میں آیا ہے جب ٹرمپ امریکی خارجہ پالیسی کے ایک سامراجی وژن کو آگے بڑھا رہے ہیں، جس میں امریکا کا دیگر ممالک کی حکومتوں کو گرانا، غیر ملکی علاقوں اور وسائل پر قبضہ کرنا اور حتیٰ کہ ہمسایہ ممالک پر بھی ان کی مرضی کے خلاف غلبہ حاصل کرنا ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بورڈ میں شامل ہونے بورڈ ا ف پیس میں بھارت اس بھارت کو کہ بھارت بھارت کے نہیں ہو رہے ہیں سکتا ہے لکھا کہ ہونے کے ٹرمپ کا بہت سے ہیں کہ رہا ہے کے لیے بھی اس کو بھی

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم