بھارت کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ تنازع کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لاسکتے ہیں، برطانوی میڈیا کی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
بھارت کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ تنازع کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لاسکتے ہیں، برطانوی میڈیا کی رپورٹ WhatsAppFacebookTwitter 0 25 January, 2026 سب نیوز
لندن(آئی پی ایس )برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارت کو خدشہ ہے کہ کل ٹرمپ تنازع کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لاسکتے ہیں۔ برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں تعمیر نو کے لیے بورڈ آف پیس میں بھارت کو دعوت دی، بورڈ کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی قائم کرنا اور عبوری حکومت کی نگرانی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کو دعوت دی گئی تھی لیکن بھارت تقریب میں موجود نہیں تھا، پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے شمولیت قبول کی، بورڈ میں 59 ممالک نے دستخط کیے جبکہ 19 ممالک کی نمائندگی تقریب میں موجود تھی۔برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے بورڈ میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے فیصلے سے مغربی ایشیا میں استحکام اور امریکی تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں، کل کو ٹرمپ تنازعِ کشمیر کو بھی بورڈ میں لا سکتے ہیں۔سابق بھارتی سفیر اکبر الدین کا کہنا ہے کہ بھارت کو بورڈ آف پیس میں شامل نہیں ہونا چاہیے، بورڈ اقوام متحدہ کی قرارداد 2803 سے متصادم ہو سکتا ہے۔سابق بھارتی سفیر نے کہا کہ قرارداد میں بورڈ کی مدت 31 دسمبر 2027 تک اور ہر چھ ماہ بعد رپورٹ کرنا لازمی ہے، بورڈ میں شامل ہونے سے بھارت بورڈ کے فیصلوں کی توثیق کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرڈی آئی خان میں شادی کی تقریب میں خودکش حملہ کرنے والا افغانی نکلا،مقدمہ درج ڈی آئی خان میں شادی کی تقریب میں خودکش حملہ کرنے والا افغانی نکلا،مقدمہ درج اسرائیل ایران پر حملے کے موقع کی تلاش میں ہے، ترک وزیر خارجہ کا بڑا انکشاف پاکستان علما کونسل کا افغان حکومت کے نئے فوجداری ضابطے پر تشویش کا اظہار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹیم بھیجنے کا فیصلہ وزیراعظم کی مشاورت کے بعد ہوگا، محسن نقوی سانحہ گل پلازہ سے ملنے والی انسانی باقیات کا ڈی این اے کہاں ہورہا ہے؟ ورثا کو اعتماد میں لیا جائے، فاروق ستار گھریلو تشددکیخلاف بل دستخط کیلئے صدر مملکت کو ارسالCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کشمیر کو بھی بورڈ بورڈ آف پیس میں برطانوی میڈیا بھارت کو
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔