Islam Times:
2026-07-24@01:48:22 GMT

ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لاسکتے ہیں

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لاسکتے ہیں

رپورٹ کے مطابق بھارت کے غزہ پیس بورڈ میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے فیصلے سے مغربی ایشیا میں استحکام اور امریکی تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں، بھارتی قیادت کو خدشہ ہے کہ کل کو ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ میں لاسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں تعمیر نو کے لیے بورڈ آف پیس میں بھارت کو دعوت دی ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ بھارت اس دعوت کو قبول کرے گا یا نہیں۔ واضح رہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی قائم کرنا اور عبوری حکومت کی نگرانی ہے۔ بورڈ آف پیس میں پاکستان،ترکیے،سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات نے شمولیت قبول کی، بورڈ میں 59 ممالک نے دستخط کیے، ڈیووس میں ہوئی تقریب میں 19 ممالک کی نمائندگی موجود تھی، ڈیووس میں نریندرمودی کودعوت دی گئی تھی لیکن وہ شریک نہیں ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کے غزہ پیس بورڈ میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے فیصلے سے مغربی ایشیا میں استحکام اور امریکی تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں، بھارتی قیادت کو خدشہ ہے کہ کل کو ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ میں لاسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ تقریب سے خطاب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ صرف امریکا کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے، میرا خیال ہے کہ ہم اسے دوسری جگہوں پر بھی پھیلا سکتے ہیں، جیسے ہم نے غزہ میں کامیابی سے کیا۔بھارت کے سابق سفیر اکبر الدین کے مطابق بھارت کو بورڈ آف پیس میں شامل نہیں ہونا چاہئے، بورڈ اقوام متحدہ کی قرارداد 2803 سے متصادم ہوسکتا ہے اور بورڈ میں شامل ہونے سے بھارت بورڈ کے فیصلوں کی توثیق کا ذریعہ بن سکتا ہے۔سابق بھارتی سفیر رنجیت رائےکا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کی کوئی مدت مقرر نہیں، اسے غزہ کے باہر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ رنجیت رائے نے کہا کہ انڈیا کے مخمصے میں اضافہ ہوا ہے، چاہے انڈیا اسے قبول کرے یا رد کرے، اس کا اثر پڑے گا، میرے خیال میں بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے خطرات زیادہ ہیں، پہلی بات تو یہ کہ ٹرمپ اس کے چیئرمین ہیں اور ان کے لین دین پر مبنی رویے سے انصاف کی توقع رکھنا بے معنی لگتا ہے، اگر انڈیا اس میں شامل نہیں ہوتا تو بھی اس کا اثر پڑے گا، کیونکہ اس فیصلے سے مغربی ایشیا متاثر ہو گا۔

خارجہ امور کی ماہر اور تجزیہ کار نروپما سبرامنیم کا کہنا ہے کہ اگر انڈیا اس میں شامل ہوتا ہے تو بہت سے خطرات ہیں، بی او پی کے ارد گرد بہت سے سوالات ہیں، انڈیا جلد بازی میں اس میں شامل نہیں ہو سکتا، کچھ لوگوں نے ٹرمپ کی دعوت کو اپنے ملک کی اہمیت کے اعتراف سے تعبیر کیا ہے، دوسرے امریکی ردعمل کے خوف سے اس میں شامل ہو جائیں گے۔ بھارتی جریدے دی ہندو نے لکھا کہ بورڈ میں شامل ہونے کا پاکستان کا فیصلہ انڈیا کے لیے ایک انتباہی اشارہ ہے، خاص طور پر اگر ٹرمپ نے تنازع کشمیر کو امن کے منصوبوں میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تو بورڈ آف پیس اسے حل کرنے کی کوشش کرے گا، ایک بار بورڈ میں شامل ہونے کے بعد، انڈیا کے لیے انٹرنیشنل پیس میکنگ فورس میں اپنے فوجیوں کی تعیناتی پر اعتراض کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔

نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ ٹرمپ نے اس ادارے کو ابتدا میں غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان امن معاہدے کی نگرانی کے لیے قائم کیا تھا، لیکن اب وہ اسے ایک ایسے ادارے میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اقوامِ متحدہ کا مقابلہ کر سکے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایک تشویش یہ بھی ہے کہ بورڈ آف پیس صرف ایک قطبی دنیا کو مضبوط کرے گا، یعنی ایک ایسا نظام جس پر امریکہ کا غلبہ ہو۔ دوسری طرف، انڈیا ایک دنیا کی وکالت کرتا ہے جہاں اس کا اپنا موقف ہے، بجائے اس کے کہ وہ امریکہ کی ایک دم بن کر رہ جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بورڈ میں شامل ہونے بورڈ آف پیس میں کے مطابق کشمیر کو نہیں ہو ہونے کے کے لیے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف