کراچی: سانحہ گل پلازا کے بعد عمارت کو سیل کرنے کا عمل شروع
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
کراچی میں سانحہ گل پلازا کے بعد عمارت کو سیل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔
عمارت کے اطراف لوہے کی شٹرنگ لگانے کا کام جاری ہے، ٹیکنیکل ٹیم نے عمارت کا جائزہ لیا۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے مطابق پہلے عمارت کی بیسمنٹ میں آگ لگی، بیسمنٹ میں موجود داخلی اور خارجی راستوں پر تالے لگے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیموں نے ویڈیوز اور دیگر شواہد سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کردیا ہے۔
کراچی کئی دہائیوں سے ہر تھوڑے عرصے بعد کسی سانحے کا شکار ہوتا آرہا ہے جس کی چند بنیادی وجوہات ہیں۔
گل پلازا میں آگ 17 جنوری کی شپ سوا 10 بجے لگی تھی، آگ سے 1200 دکانیں متاثر ہوئیں اور ایک حصہ زمین بوس ہوا۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو مجموعی طور پر 79 لاپتہ افراد کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ اب تک 73 لاشوں کی باقیات برآمد کی جاچکی ہیں، 23 کی شناخت مکمل کر کے انہیں لواحقین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔