تجزیہ ایک ایسا پروگرام ہے جس میں تازہ ترین مسائل کے بارے میں نوجوان نسل اور ماہر تجزیہ نگاروں کی رائے پیش کی جاتی ہے۔ آپکی رائے اور مفید تجاویز کا انتظار رہتا ہے۔ یہ پروگرام ہر اتوار کے روز اسلام ٹائمز پر نشر کیا جاتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںتجزیہ انجم رضا کے ساتھ
موضوع: نام نہاد غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت — سفارتی ضرورت یا آزمائش؟
مہمان تجزیہ نگار: انجینئر سید علی رضا نقوی
میزبان: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو و اہم نکات:
نام نہاد غزہ امن بورڈ نہ توامن کوشش ہے، اور نہ ہی اس  امن ہوگا
نام نہاد غزہ امن بورڈ ٹرمپ  اور اس کے داماد کی کاروباری ذہنیت  پھیلایا ہوا جال ہے
نام نہاد غزہ امن بورڈ ٹرمپ کی آشیر باد پہ جی حضوری کا فورم لگ رہا ہے
یہ  اصل میں ٹرمپ امن بورڈ ہے اور تماشہ ہے
عالمی مبصرین  کی رائے کے مطابق یہ اقوام متحدہ کے مقابل فورم بنانے کی بھونڈی کوشش ہے
یہ کیسا امن بورڈ ہے جس میں حماس اور غزہ کو تہ تیغ کرنے کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں
جنگ کے ذریعے امن حاصل کرنے کا مضحکہ خیز منصوبہ غزہ امن بورڈ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود مسلسل حملے ٹرمپ اور اس نام نہاد غزہ امن بورڈ کو نظر نہیں آتے؟
ٹرمپ  کےیہ سب ڈرامے اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کے لئے کئے جارہے ہیں
سرد جنگ کے زمانے میں تو کرہ ارض پہ نظریاتی کشکمش  نظر آتی تھی، اب تو مفادات کی مہم جوئی ہورہی ہے
امریکہ کو اسرائیل سے کیا مفاد ہے یہ سوال آج بھی لاینحل ہے
دنیا بھر کے تمام ممالک کی نام نہاد غزہ امن بورڈ  کے اجلاس پہ خامشی بھی معنی خیز ہے
ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس پہ  نام نہاد غزہ امن بورڈ   کا قیام بھی حیرت ناک ہے
مسئلہ فلسطین و القدس پاکستان کے لئے مسئلہ کشمیر کی مانند اہم اور ترجیحی ہے
پاکستان کی کوئی بھی حکومت کشمیر کے حق خودارادیت کا موقف نہیں  چھوڑ سکتی
سینٹ اور پارلیمنٹ کے مشترک اجلاس میں  مکمل ہاوس نے نام نہاد غزہ امن بورڈ   میں شمولیت کی مخالفت کی گئی
وفاقی حکومت نے اسمبلی جو موقف اختیار کیا ہے ، کیاا س سے غزہ  میں امن قائم ہوگا؟
پاکستان کے عوام تو فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم کے موقف کے حمایتی ہیں
غزہ امن منصوبے میں پاکستان یقینا تاریخ   میں حق کے ساتھ کھڑا ہوگا خاموش تماشائی نہیں بنے گا
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نام نہاد غزہ امن بورڈ

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟